تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 231
جلد اوّل 202 تاریخ احمدیت بھارت قادیان کے المناک کوائف اور جماعت احمدیہ کی مظلومیت اور ملی خدمات کا چر چاعالمی پریس میں قادیان چونکہ ایک بین الاقوامی فعال اور منظم جماعت کا ایک شہرہ آفاق مرکز تھا، اس لئے جہاں مشرقی پنجاب بلکہ دہلی جیسے شہر میں خونِ مسلم سے جو ہولی کھیلی گئی اس پر بیرونی اخبارات نے بہت کم نوٹس لیا وہاں قادیان میں فتنہ و فساد اور قتل و غارت کی تفصیلی خبریں برصغیر پاک وہند کے مشہور اخبارات کے علاوہ دوسرے عالمی پریس نے بھی جلی عنوانوں سے شائع کیں جس سے دنیا بھر میں زبر دست تہلکہ پڑ گیا اور قادیان کے احمدی جوانوں کی جرأت و مردانگی اور استقلال و پامردی کی ہر جگہ دھوم مچ گئی۔بھارت کے اخبارات میں فسادات قادیان کا ذکر 1 - اخبار نوجوان اخبار نوجوان (مدراس) کے ایڈیٹر صاحب نے اپنی 20 /اکتوبر 1947 ء کی اشاعت میں لکھا: قادیان میں قتل و غارت خلیفہ قادیان کا مکان اور ظفر اللہ خان کی کوٹھی لوٹ لی گئی افسوس ہے قادیان کے حالات دن بدن زیادہ ابتر ہوتے جارہے ہیں۔تازہ اطلاعات سے یہ معلوم کرنا حد درجہ افسوس ناک ہے کہ جناب میاں محمود احمد صاحب خلیفہ قادیان کا مکان بیت الحمد اور چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی کوٹھی لوٹ لی گئی۔محلہ دار الرحمت اور دار الانوار میں قتل و غارت کا بازارگرم کیا گیا جس میں کہا جاتا ہے ڈیڑھ دو سو آدمی شہید ہوئے۔مسجد میں گرد ونواح کے ہندو مکانات سے بم پھینکے گئے جس سے 2 آدمی شہید ہوئے۔اس کے علاوہ ایک فوجی کنوائے پر جو قادیان سے پناہ گزینوں کو پاکستان لا رہا تھا۔بٹالہ میں حملہ کیا گیا اور گولیوں کی بارش کی گئی جس سے کئی آدمی شہید ہو گئے۔کیا یہ حالات اس قابل نہیں کہ ان کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا جائے ،مسٹر لیاقت علی کا درس امن اپنی جگہ پر بے شک قابل قدر اور لائق توجہ ہے لیکن مشرقی پنجاب کے ان مظالم کے سد باب کے لئے بھی تو کوئی مؤثر تدا بیر عمل میں آنی چاہئیں۔“ (12)