تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 213 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 213

جلد اوّل 184 تاریخ احمدیت بھارت اتوار کی درمیانی رات کو جبکہ سیالکوٹ کے ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر سے انتظامی معاملات کے متعلق فون پر بات کر رہے تھے۔انہیں یکدم قادیان کے فون کی آواز آئی اور معلوم ہوا کہ قادیان کا کوئی شخص ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو فون کر رہا ہے۔وہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو یہ اطلاع دے رہا تھا کہ دو دن سے یہاں گولی چلائی جا رہی ہے۔قادیان کے دو محلوں کو لوٹا جا چکا ہے اور ان محلوں کے احمدی سمٹ کر دوسرے محلوں میں چلے گئے ہیں۔اور یہ گولی پولیس اور ملٹری کی طرف سے چلائی جارہی ہے۔اس خبر کے سننے کے بعد ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ نے ڈپٹی کمشنر گورداسپور سے پوچھا کہ آپ نے یہ بات سنی۔اب آپ کا کیا ارادہ ہے۔انہوں نے کہا ہمیں یہ تو اطلاع تھی کہ بھینی پر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) حملہ کر رہے ہیں۔مگر یہ اطلاع نہیں تھی کہ قادیان پر۔۔۔۔( مفسدہ پرداز ) حملہ کر رہے ہیں۔گو یا بھینی میں انسان نہیں بستے اور وہ ہندوستان یونین کے شہری نہیں۔اور اس لئے بھینی میں مسلمانوں کا خون بالکل ارزاں ہے۔اس پر ڈی سی (DC) سیالکوٹ نے کہا اب آپ کیا کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔تو ڈی سی گورداسپور نے جواب دیا کہ میں کل سپر نٹنڈنٹ پولیس کو وہاں بھجواؤں گا۔ڈی سی سیالکوٹ نے ان کو کہا یہ اس قسم کا اہم معاملہ ہے کہ اس میں آپ کو خود جانا چاہیئے۔۔۔۔آپ خود کیوں نہیں جاتے۔انہوں نے کہا۔اچھا میں خود ہی جاؤں گا۔اس کے بعد قادیان سے فون پر حالات معلوم کرنے کی کوشش کی گئی۔اور اتفاقا فون مل گیا جو اکثر نہیں ملا کرتا۔اس فون کے ذریعہ جو حالات معلوم ہوئے ہیں وہ یہ ہیں کہ کل تک 150 آدمی مارا جا چکا ہے۔جن میں سے دو آدمی مسجد کے اندر مارے گئے ہیں۔احمد یہ کالج پر بھی پولیس اور ملٹری نے قبضہ کر لیا ہے اور دو احمدی محلے لٹوادیئے ہیں، دار الانوار اور دار الرحمت۔دارالانوار میں سر ظفر اللہ خاں کی کوٹھی بھی اور امام جماعت احمدیہ کا بیرونی گھر بھی لوٹا گیا ہے۔لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ اب ان باتوں کا نتیجہ کیا ہوگا۔جیسا کہ ہم پہلے بتا چکے ہیں ، احمد یہ جماعت کا یہ مسلک نہیں کہ وہ حکومت سے ٹکر کھائے۔اگر۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جتھے ایک ایک احمدی کے مقابلہ میں سوسو۔۔۔۔( مفسدہ پرداز ) بھی لائیں گے تو قادیان کے احمدی ان کا مقابلہ کریں گے اور آخر دم تک ان کا مقابلہ کریں گے۔لیکن جہاں جہاں پولیس اور ملٹری حملہ کرے گی ،وہ ان سے لڑائی نہیں کریں گے۔اپنی جگہ پر چمٹے رہنے کی کوشش کریں گے۔مگر جس جگہ سے ملٹری اور پولیس ان کو زور سے نکال دے گی ، اس کو وہ خالی کر دیں گے اور دنیا پر یہ ثابت کر دیں گے کہ ہندوستان یو نین کا یہ دعویٰ بالکل جھوٹا