تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 214 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 214

تاریخ احمدیت بھارت 185 ہے، کہ جو ہندوستان یونین میں رہنا چاہے خوشی سے رہ سکتا ہے۔جلد اوّل لوگ کہتے ہیں کہ اگر ایسی ہی بات ہے تو آپ لوگ اپنے آدمیوں کی جانیں کیوں خطرہ میں ڈال رہے ہیں۔آپ قادیان کو فوراً خالی کر دیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ ہم قادیان میں تین اصول کو مدنظر رکھ کر ٹھہرے ہوئے ہیں۔اول مومن کو خدا تعالیٰ کی مدد سے آخر وقت تک مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔جب تک ہم کو پکڑ کر نہیں نکالا جاتا ہمیں کیا معلوم ہوسکتا ہے کہ خدا کی مشیت اور خدا کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے احمدی وہاں ڈٹے رہیں گے۔تاکہ خدا تعالیٰ کے سامنے ان پر یہ حجت نہ کی جائے کہ خدا کی نصرت تو آرہی تھی تم نے اس سے پہلے کیوں مایوسی ظاہر کی۔دوسرے جیسا کہ اوپر بتایا جا چکا ہے، احمدیوں نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ ہندوستان یونین کے دعووں کی آزمایش کریں گے۔اور یہ حقیقت آشکار کر کے چھوڑیں گے، کہ جب وہ کہتے ہیں کہ کسی کو ہندوستان یونین سے جانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، تو وہ سچ کہتے ہیں یا جھوٹ۔احمدی چاہتے ہیں کہ انہیں بھی معلوم ہو جائے اور دنیا کو بھی معلوم ہو جائے ، کہ ہندوستان یونین کے وزراء جھوٹے ہیں یا سچے۔بے شک احمدیوں کو وہاں ٹھہرے رہنے میں قربانی کرنی پڑے گی۔لیکن ان کے وہاں ٹھہرے رہنے سے ایک عظیم الشان حقیقت آشکار ہو جائے گی۔یا تو دنیا کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ ہندوستان یونین کے افسر نیک نیتی اور دیانت داری کے ساتھ اپنے ملک میں امن قائم رکھنا چاہتے تھے۔اور یا دنیا پر یہ ظاہر ہو جائے گا کہ وہ منہ سے کچھ اور کہتے تھے اور ان کے دلوں میں کچھ اور تھا۔کیونکہ قادیان سے احمدیوں کا نکالا جانا ایک فوری واقعہ نہیں تھا ، کہ جس کی اصلاح ان کے اختیار میں نہیں تھی۔قادیان پر حملہ ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ سے چلا آرہا ہے۔اس کے علاوہ خود میں نے پنڈت جواہر لال صاحب نہرو سے باتیں کیں۔اور ان کو اس طرف توجہ دلائی۔پنڈت جواہر لال صاحب نہرو نے مجھے یقین دلایا کہ ہندوستان یونین ہرگز مسلمانوں کو اپنے علاقہ سے نکلنے پر مجبور نہیں کرتی۔انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ تین چار دنوں تک وہ فون اور تار کے راستے کھلوانے کی کوشش کرینگے۔اور دو ہفتہ تک قادیان کی ریل گاڑی کے جاری کروانے کی کوشش کریں گے۔احمد یہ جماعت کا وفد سردار بلدیو سنگھ صاحب سے بھی ملا اور انہوں نے اصلاح کی ذمہ داری لی اور یہاں تک کہا کہ وہ خود قادیان جا کر ان معاملات کو درست کرنے کی کوشش کریں گے۔احمد یہ جماعت کے