تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 206
تاریخ احمدیت بھارت 177 جلد اول کیا۔اس عرصہ میں تحریک جدید بورڈنگ میں داخل رہا اور با قاعدہ تہجد خواں ہونے کی وجہ سے انعام حاصل کرتا رہا۔زمیندارہ کالج گجرات سے اعلیٰ درجہ دوم میں ایف اے پاس کیا اور C۔M۔A کے مقابلہ کے امتحان میں کامیاب ہو کر ملازم ہو گیا۔دوران ملازمت میں ہی منشی فاضل کا امتحان پاس کر کے بی۔اے پاس کر لیا۔1942ء میں وصیت کی پھر حضور کے حکم کے ماتحت اپنی جائیداد وقف کر دی۔جون 1947ء میں مرحوم کو مہمان خانہ میں معاون ناظر ضیافت کے فرائض کی انجام دہی کے لئے تعینات کیا گیا۔اپنی 19 ستمبر 1947ء کی چٹھی میں جو 25 ستمبر کو گولی پہنچی۔مرحوم نے لکھا حضور کا حکم ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھیج دو اور خوب ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ہم تو حضور کے حکم کے مطابق خون کا آخری قطرہ بہانے کے لئے یہاں بیٹھے ہیں۔“ حضرت قاضی محمد عبد اللہ صاحب بی۔اے۔بی۔ٹی ناظر ضیافت نے ان کی وفات پر اپنے تاثرات کا اظہار درج ذیل الفاظ میں فرمایا قریشی صاحب مرحوم واقعی نہایت صالح مخلص احمدی تھا۔اپنی شب و روز محنت وسعی سے جو سلسلہ عالیہ کی خدمت میں اپنے فرائض ادا کرتے ہمیں اپنا گرویدہ بنالیا۔رات کے دس دس بجے تک کام کرتے رہتے اور صبح تہجد کے لئے بھی جاگتے اور نماز فجر کے بعد فوراً جملہ انتظامی امور کی طرف متوجہ ہو جاتے۔دراصل ہر وقت فرائض مفوضہ کے ادا کرنے میں مستعد رہتے“۔( بحوالہ الفضل 3 / دسمبر 1947 ء صفحہ 6 کالم 2، حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 168 ، 169 مطبوعہ 2007ء) مکرم سلطان عالم صاحب کے بارے میں حضرت خلیفہ امسیح الرابع ” نے اپنے خطبہ جمعہ فرمودہ 14 مئی 1999ء میں ذکر کیا ہے جو آئندہ صفحات میں شامل کیا جارہا ہے۔صدر انجمن احمد یہ پاکستان کی رپورٹ -48-1947ء میں لکھا ہے وہ دن رات مہمان خانہ کے اندر رہتے اور مہمانوں کی ضروریات کو پورا کرنے میں بہت دلچسپی لیتے تھے۔مگر افسوس کہ 14اکتوبر کی صبح کو جب کہ وہ اپنے فرائض ادا کر کے کرفیو دو گھنٹے اٹھ جانے کی وجہ سے باہر محلہ میں جانے کے لئے قصد کرتے ہوئے بھائی محمود احمد صاحب میڈیکل ہال کی دکان سے گزر رہے تھے کہ ایک ظالم۔۔۔سپاہی نے انہیں گولی کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔۔۔۔مرحوم کونو ر ہسپتال کے ایک گڑھے میں دبا دیا گیا جہاں اب کتبہ بھی نصب کر دیا گیا ہے۔شہید نے بوڑھے والدین جوان بیوہ ( بنت ڈاکٹر عمر دین صاحب افریقی ساکن گجرات) اور دو بیٹے ( خلیل احمد اور نعیم احمد ) دو بھائی ( پیر محمد عالم صاحب، پیر حامد عالم سجاد صاحب) اور تین بہنیں بطور یادگار چھوڑیں۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 169 مطبوعہ 2007ء)