تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 176 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 176

جلد اوّل 160 تاریخ احمدیت بھارت اس سے پہلے دو واقعات اور پیش آئے جن کا ذکر کرنا بہت ضروری ہے پہلا واقعہ تو یہ ہے کہ جب ہم گندم لدوار ہے تھے تو وہاں دو ضعیف العمر بزرگ نظر آئے جو اٹھوال کے رہنے والے تھے جو اس گاؤں کے نمبردار کے متعلق بڑے افسوس سے باتیں کر رہے تھے۔میں نے سلام علیکم عرض کیا اور کہا بابا جی نمبر دار کو کیا ہوا، کہنے لگے کہ نمبردار بہت ہی متعصب اور احمدیت کا سخت مخالف تھا۔جب کبھی ہم ان کو تبلیغ کرنے آتے تو نمبر دار ہمارے ساتھ بڑی بُری طرح پیش آتا اور ہمیشہ گستاخی کے ساتھ بات کرتا۔ابھی ہم کو یہ دیکھ کر افسوس ہو رہا ہے کہ ان کا وہی گھر خالی اور ویران پڑا ہے۔پتہ نہیں اس کے ساتھ اور اس کے گھر والوں کے ساتھ کیا گزری اور اب وہ کس حال میں ہیں۔میں نے کہا بابا جی کون سا گھر ہے نمبر دار صاحب کا۔کہنے لگے یہ سامنے والا مکان ہے۔مجھے خیال آیا کہ نمبر دار صاحب کا مکان تو دیکھنا چاہئے۔چنانچہ ہم سب بمع ان بزرگوں کے نمبردار کے گھر چلے گئے۔وہاں گھر کے صحن میں ایک چھوٹا سا تنور بنا ہوا تھا اس تنور پر ایک کپڑوں کی گٹھری پڑی ہوئی تھی۔میں نے اس کو دیکھنا چاہا کہ اس گٹھری میں کیا ہے۔جب میں نے اس گٹھری کو سیدھا کیا تو دیکھا کہ وہ ایک جوان عورت ہے۔رورو کر آنسو اس کے گالوں پر بہہ رہے تھے اور اس کی حالت نہایت خستہ تھی۔اتنے زیادہ آدمیوں کو دیکھ کر اس نے اور بھی اونچی اور دردناک آواز میں رونا شروع کر دیا۔اس گاؤں کے کئی آدمی وہاں تھے۔انہوں نے بتایا کہ یہ تونمبر دار کی بیٹی ہے اور اس کا بھائی بھی ہمارے ساتھ آیا ہوا ہے۔میں نے کہا کہ اس کو بلاؤ۔جب وہ آیا تو میں نے کہا کیا یہ تمہاری بہن ہے؟ کہنے لگا ہاں جی یہ ہماری ہی بہن ہے۔میں نے کہا کہ جب تم نے یہ گاؤں اور اپنا گھر خالی کیا تھا تو اپنی بہن کو اپنے ساتھ کیوں نہیں لے کر گئے؟ کہنے لگا جی ہم سب کو تو اپنی اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی۔یہ تو پاگل ہے، اس کا تو کسی کو خیال ہی نہیں آیا۔معلوم ہوتا تھا کہ گھر والوں نے اس جوان لڑکی کو غیر اہم سمجھ کر ایسے ہی چھوڑ دیا اور خود۔۔۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) کے ڈر سے بھاگ گئے حالانکہ وہ اچھی خاصی تندرست اور جوان لڑکی تھی اور باتوں کا جواب بھی دے سکتی تھی۔میں نے ایک آدمی کو جس کے پاس گھوڑی تھی ، کہا کہ اس لڑکی کوگھوڑی پر بٹھاؤ اور تلونڈی جھنگلاں پہنچاؤ، یہ تمہاری ڈیوٹی ہے اور اس کے بھائی کو بھی کہا کہ تم بھی اپنی بہن کے ساتھ ہی جاؤ۔بعد میں کسی نے بتایا کہ مذکورہ بالا دونوں بزرگ جو آٹھواں سے آئے تھے حضرت مسیح موعود کے صحابی معلوم ہوتے ہیں۔جوان لڑکی کی یہ حالت دیکھ دیکھ کر دونوں بزرگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔دوسرا واقعہ یہ ہے کہ ہمارا قافلہ بڑا لمبا ہو گیا تھا۔ہم کو معلوم نہیں تھا کہ ہماری لاعلمی میں بہت سے