تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 177
تاریخ احمدیت بھارت 161 جلد اوّل لوگ ہمارے پیچھے پیچھے آگئے تھے جو مسلمان گاؤں خالی کر کے گئے ہیں اور ان کے مکان ہر قسم کے سامان سے بھرے ہوئے ہیں اور وہاں سے لوٹ کا مال سمجھ کر کوئی سامان لائیں۔قافلہ اتنا لمبا ہوگیا تھا کہ قافلے کا اگلا حصہ دو میں جاچکا تھا اور ہم ابھی ممراء میں ہی تھے۔میں نے صلاح الدین کو آگے بھیج دیا کہ وہ قافلے کے اگلے حصے کی نگرانی کرے۔محمد عیسی کو میں نے کہا کہ تم قافلے کے درمیان میں رہو۔اگر کوئی خطرہ ہو تو ہوائی فائر کر دینا۔ہم تمہاری مد کو پہنچیں گے۔اس کے پاس شاٹ گن تھی میں نے کہا کہ میں قافلے کے آخری حصہ میں رہوں گا۔کیونکہ میرے پاس تھری ناٹ تھری کی رائفل ہے۔جب قافلے کا آخری حصہ ممراء سے کوئی نصف میل گیا ہوگا کہ قافلے کے درمیانی حصہ میں کافی شور وغل ہوا اور دو۔۔۔۔مفسدہ پرداز ) گھوڑ سوار بھاگتے اور قافلے میں داخل ہوتے دکھائی دئے۔میں نے یکے بعد دیگرے دو ہوائی فائر کئے اور آگے کو دوڑ کر گیا۔لیکن ہمارے جانے تک وہ گھوڑ سوار بھاگ گئے۔وہاں جا کر پتہ چلا کہ۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ایک لڑکی کو اغوا کرنا چاہتے تھے۔لڑکی کی بوڑھی والدہ نے مقابلہ کیا اور لڑکی کے ساتھ چمٹ گئی اور اس کو نہ چھوڑا اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ہمارے فائر کی آواز سن کر فرار ہو گئے مگر جاتے جاتے وہ لڑکی کی والدہ کو برچھی مار کر زخمی کر گئے۔میں نے اس عورت کو پٹی بندھوا کر ایک گدھے پر سوار کروادیا اور پھر ہم سب تلونڈی جھنگلاں پہنچ گئے اور حوالدار نور محمد کو جا کر سب واقعات تفصیل سے بتائے اس نے اسی وقت چکی سے آٹا پسوا یا اور رات کو ہم نے اپنا باورچی خانہ آباد کیا اور خود روٹی پکا کر کھائی۔اسی طرح ہم متعدد مرتبہ مختلف دیہاتوں سے جا کر گندم لاتے رہے۔ایک دن مرکز قادیان سے اطلاع ملی کہ تلونڈی جھنگلاں پر عنقریب پولیس کا چھاپہ پڑنے والا ہے۔چنانچہ کئی مرتبہ سارا سارا دن یا آدھی آدھی رات تک کھیتوں میں روپوش رہتے کیونکہ حکومت سے ٹکر لینا ہمارے پروگرام میں شامل نہیں تھا۔ایک مرتبہ پولیس گاؤں میں داخل ہوگئی مگر صوبیدار اللہ یار اور حوالدار نورمحمد صاحب سے دوستانہ رنگ میں باتیں کر کے چلی گئی۔ہمارے کسی آدمی کو گرفتار کرنے کی ہمت ان کو نہ ہوئی کیونکہ ہم نے ابھی تک کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا نہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ تھا ہم تو مرکز کے حکم سے علاقہ کی حفاظت پر مامور تھے۔کسی کو مارنا یا قتل کرنا نقصان پہنچانا ہمارا مقصد نہیں تھا۔لہذا پولیس علاقے کا جائزہ لے کر چلی گئی۔ہم کو اس گاؤں میں رہتے ہوئے دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔اس گاؤں میں اب آبادی کافی زیادہ ہو گئی تھی۔کیونکہ ارد گرد کے دیہاتوں سے بہت سے مسلمان۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کے