تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 175
تاریخ احمدیت بھارت 159 جلد اول اور چاروں طرف دیکھنے لگے۔ابھی انہوں نے گندم بھرنی ہی شروع کی تھی کہ ایک دم شور ہوا کہ۔۔۔۔۔۔۔مفسدہ پرداز) آگئے۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) آگئے۔میں نے پہلے تو ایک ہوائی فائر کیا اور پھر ہم اس سمت کو دوڑ پڑے جدھر سے آوازیں آرہی تھیں۔ہم کو چند۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) نظر آئے مگر جلد ہی وہ کماد کی فصل میں روپوش ہو گئے۔ہم نے ان کے گردگھیرا ڈالنے کی کوشش شروع کر دی، باقی توسب۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غائب ہو گئے مگر ایک۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) غلطی سے اچانک ہی ہمارے سامنے آگیا۔وہ نہتا تھا اس لئے ایک جوان نے اس کو لاٹھی ماری ، وہ۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) بھی بڑا تگڑا آدمی تھا، اس نے لاٹھی آگے سے پکڑ لی اور مقابلہ کرنا شروع کیا۔مگر دوسرے ایک آدمی نے اس کو بالوں سے پکڑ کر قابو میں کر لیا۔وہ بے چارہ ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگا کہ مجھے نہ مارو۔میرا بھی اس کو مارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا مگر ایک جذباتی نوجوان نے شاٹ گن سے اس پر فائر کر دیا اور وہ ادھر ہی گر گیا۔مجھے افسوس ہوا کیونکہ انہوں نے ابھی تک ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا تھا اور نہ ہی ہم لڑائی کرنے آئے تھے۔ہم تو محض گندم حاصل کرنے آئے تھے مگر جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔اردگرد کے دو تین دیہات سے بہت سے۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز) اکٹھے ہو کر ہمارے خلاف نعرے لگانے لگے۔ادھر ہمارے ایک آدمی کی گھوڑی چھوٹ کر۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے دیہات میں چلی گئی۔جبکہ دیہاتیوں کا ایک ہجوم اس تاز قتل پر بہت برہم اور مشتعل تھا۔خطرہ تو تھا کہ شاید ان کے پاس بھی اسلحہ ہو، مگر بالآخر میں نو جوانوں کو کور کرتا ہوا ساتھ گیا اور وہ اپنی گھوڑی کو پکڑ لائے۔کچھ لوگ دور سے پتھر مارنے لگے تو میں نے تھری ناٹ تھری کا ایک ہوائی فائر کر دیا اور ہم بخیر وعافیت گھوڑی پکڑ کر لے آئے۔لیکن ہم ابھی خطرے سے باہر نہیں تھے کیونکہ۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کا ہجوم ہمارے پیچھے پیچھے تھوڑے فاصلے پر آرہا تھا اور اشتعال انگیز نعرے لگا رہا تھا۔ہم نے دیکھا تو ہمارے لوگ ممراء گاؤں کی طرف تقریباً بھاگ کھڑے ہوئے اور صرف تین آدمی رہ گئے۔اس موقعہ پر اگر وہ ہم پر یک دم حملہ کر دیتے تو ہم کو پکڑ سکتے تھے۔مگر خدا نے فضل کیا اور ہم باوقار طور پر چلتے چلتے محفوظ جگہ پر آ گئے۔جب ہم نے اس جگہ کو کراس کر لیا جہاں پر ان کا ایک آدمی قتل ہوا تھا تو ہجوم اس کی لاش کے پاس ٹھہر گیا اور بالآخر وہ لاش کو اٹھا کر نعرے لگاتے ہوئے واپس چلے گئے اور ہم مناسب رفتار میں ممراء پہنچ گئے جہاں ہمارے آدمی گندم لا در ہے تھے۔ہم نے جلدی جلدی گندم لدوائی اور تلونڈی جھنگلاں کو روانہ ہو گئے۔