تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 141 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 141

تاریخ احمدیت بھارت 125 جلد اول چاپ اس ہدایت پر عمل کرتے ہوئے کہ ملٹری اور فوج کا مقابلہ نہیں کرنا بھرے گھروں کو خالی کیا جارہا تھا۔کیونکہ ملٹری اورمسلح پولیس ایک ایک مکان پر جا کر کہہ رہی تھی کہ فور مکان خالی کر دو ورنہ گولی چلا دی جائے گی۔اور۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جن کو ہم نے روک رکھا ہے قتل و غارت کا بازار گرم کر دیں گے۔اس ظالمانہ اور وحشیانہ حکم کو بعض جگہ پولیس اور ملٹری نے عملی جامہ بھی پہنایا۔چنانچہ میرے مکان کے بالکل قریب مرزا احمد شفیع صاحب بی۔اے کو گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔جب ظلم وستم اور جبر و تشدد کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو اکثر لوگ مکان خالی کر دینے پر مجبور ہو گئے۔اور ایسی حالت میں خالی کرنے پر مجبور ہو گئے کہ اکثر احباب بالکل خالی ہاتھ نکلے کیونکہ اگر کوئی کچھ لے کر نکلتا تو پولیس اور ملٹری کی موجودگی میں۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) لوٹ لیتے اور ملٹری والے بھی اس میں حصہ دار ہوتے۔(8)۔احمدی نوجوانوں کی شجاعت اور جاں نثاری میں اپنے ایک بچے حمید احمد سمیت جو مرکزی حفاظت کا فریضہ ادا کرنے والے نوجوانوں میں شامل تھا اور محلہ کی مخدوش حالت کی اطلاع پاکر اور یہ سن کر کہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے حملہ کا بہت بڑا زور ہمارے مکان کے پاس ہے، میری خبر معلوم کرنے کے لئے گھر آیا تھا۔اور ہم یہ دیکھ کر کہ قریب قریب کی عورتیں اور بچے جاچکے ہیں، اپنے مکان سے نکلے اور بابوا کبر علی صاحب مرحوم کی کوٹھی میں پہنچے جہاں مرکزی حفاظت کرنے والے نوجوان مقیم تھے۔میرے وہاں جانے کے تھوڑی دیر ہی بعد انچارج صاحب کو اطلاع پہنچی کہ ایک مکان میں ابھی تک بہت سی عورتیں اور بچے محصور ہیں۔اور خطرہ لمحہ بہ لمحہ بڑھتا جا رہا ہے ان کو بحفاظت نکالنے کا انتظام کیا جائے اس پر انچارج صاحب نے نوجوانوں کو آواز دی اور وہ دوڑتے ہوئے آکر ان کے گرد جمع ہو گئے۔اور جب انہیں بتایا گیا کہ فلاں مکان میں عورتیں اور بچے موجود ہیں ان کو نکال لائیں تو ایک لمحہ کا توقف کئے بغیر سارے کے سارے نوجوان ، جن کی تعداد 15-20 سے زیادہ نہ تھی اور جو اس وقت وہاں پہنچے تھے۔ملٹری اور پولیس کی گولیوں اور۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی چار چارفٹ لمبی کر پانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے صرف لاٹھیاں لے کر دوڑ پڑے اور تھوڑی ہی دیر میں دوسو کے قریب عورتوں اور بچوں کو