تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 140
جلد اوّل 124 تاریخ احمدیت بھارت لوٹ مار کے متعلق ضروری او گھات بتا کر روانہ کر رہی ہے۔اور غنڈے پولیس وملٹری کے گولیاں چلانے کے اشارہ پر آگے بڑھ رہے ہیں۔اس دو طرفہ حملہ کو دیکھ کر پناہ گزین مسلمان جو گھروں میں اور کھلی جگہوں میں پڑے تھے۔تھوڑا بہت اسباب سمیٹ کر بے تحاشا بھاگنے لگے۔مگر ان کو بتایا گیا کہ آبادی سے باہر نہ جائیں ور نہ غنڈے۔۔۔۔۔( مفسدہ پرداز ) ان سے سب کچھ چھین لینگے۔اور ان کی جان کے علاوہ عزت و آبرو پر بھی ڈاکہ ڈالیں گے۔بلکہ بورڈنگ کی عمارت کی طرف جائیں اور وہاں جا کر پناہ لیں۔چونکہ محلہ میں ابھی تک بہت سی احمدی عورتیں اور بچے موجود تھے اور۔۔۔۔۔( مفسدہ پردازوں ) غنڈے ملٹری اور پولیس کی پناہ میں آبادی میں داخل ہورہے تھے۔اس لئے ہمارے نوجوان ان کی حفاظت کے لئے ملٹری اور پولیس کی گولیوں اور۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی کر پانوں کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے ضروری مقامات پر پہنچ گئے۔ان نوجوانوں کو جہاں یہ ہدایت تھی کہ کسی موقع پر بھی پولیس اور ملٹری سے نہ ٹکرائیں خواہ وہ کتنا ہی ظلم و ستم کرے وہاں یہ بھی حکم تھا کہ اگر کسی عورت کی عصمت پر حملہ کیا جائے تو خواہ حملہ کرنے والا کوئی ہو اس کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور کسی قسم کے خطرہ کی کوئی پروانہ کریں۔بلکہ مردانہ وار داد شجاعت دیں۔اس فرض کی ادائیگی کے لئے ہمارے عزیز بچے برستی گولیوں اور چمکتی کر پانوں کے دوران اپنی اپنی مقررہ جگہ پر جم کر کھڑے ہو گئے۔اور اس طرح انہوں نے عورتوں اور بچوں اور نہتے مردوں کی جو ہزاروں کی تعداد میں محصور ہو چکے تھے، گھروں سے نکلتے وقت قابل تعریف شجاعت کے ساتھ حفاظت کی۔سارے محلہ میں ملٹری اور پولیس کی گولیوں اور وحشی۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی کر پانوں نے قیامت بر پا کر رکھی تھی۔انہوں نے خالی مکانوں میں گھس کر اور تالے توڑ کر لوٹ مار شروع کر دی تھی۔کئی لوگوں کو زخمی کر چکے تھے اور بہت بڑی تعداد میں جنگلی درندوں کی طرح شور مچاتے ہوئے ادھر اُدھر دوڑ رہے تھے۔مگر احمدی عورتیں اور بچے پوری احتیاط اور حفاظت کے ساتھ گھروں سے نکال کر بورڈنگ میں پہنچائے جارہے تھے۔اس وقت ہماری خواتین اور بچوں نے بھی بڑے حوصلے اور وقار کا اظہار کیا باوجود یہ کہ انتہائی خطرات ہر طرف سے انہیں گھیرے ہوئے تھے۔اور دیہاتی پناہ گزین عورتوں اور بچوں کی چیخ و پکار ہر چہار اطراف سے سنائی دے رہی تھی۔مگر کیا مجال کہ کسی احمدی عورت اور بچے نے کسی قسم کے خوف و ہراس کا اظہار کیا، یا اضطراب اور بے چینی کا کوئی کلمہ منہ سے نکالا۔ہمارا ہر مرد، ہر عورت بلکہ ہر بچہ رضا بالقضا کا مجسمہ نظر آ رہا تھا۔اور چپ