تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 142 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 142

جلد اوّل 126 تاریخ احمدیت بھارت بحفاظت نکال لائے۔ان عورتوں اور بچوں سے بھی کسی قسم کی گھبراہٹ اور بے صبری کا اظہار نہ ہوتا تھا۔جب ہمارے مجاہد ان کو اپنی حفاظت میں بورڈنگ کی طرف لا رہے تھے تو موضع بڑاں سے قادیان آنے والے راستے کے قریب جو محلہ دار الرحمت اور محلہ دارالعلوم کے درمیان واقع ہے۔بہت سے مسلح۔۔۔۔۔مفسدہ پردازوں) نے حملہ کرنے کی کوشش کی۔یہ دیکھ کر ہمارے نوجوان جن کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں ان کے مقابلہ میں ڈٹ گئے۔خدا تعالیٰ نے ان کی خاص مدد اور نصرت فرمائی۔جب تک ملٹری اور پولیس وہاں پہنچی کئی ایک۔۔۔۔۔( مفسدہ پردازوں) کو انہوں نے مار گرایا اور باقی دُم دبا کر بھاگ گئے اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ہمارے نوجوانوں میں سے کسی کو خراش تک نہ آئی بحال یہ کہ ان کے پاس صرف لاٹھیاں تھیں اور۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے پاس کر پائیں، اور وہ سمجھتے تھے کہ پولیس اور ملٹری ان کی پشت پناہ ہے۔خواتین اور بچوں کو نرغہ سے نکالنے کے لئے جو مجاہدین اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر مردانہ وار آگے بڑھے تھے۔اگر چہ وہ اپنے مقصد میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہوئے لیکن ان میں سے ایک مجاہد جونہایت سجیلا جوان تھا۔اور رضا کارانہ قادیان کی حفاظت کا فرض ادا کرنے کے لئے کھاریاں ضلع گجرات سے آیا ہوا تھا۔نیاز علی نام تھا۔نہ معلوم اپنے ساتھیوں سے کس طرح علیحدہ ہو گیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ ملٹری نے نہایت سفا کی سے اسے گولی کا نشانہ بنایا۔اناللہ وانا الیہ راجعون (31) اور پھر ستم بالائے ستم یہ کہ اس کی لاش بھی نہ اٹھانے دی خدا تعالیٰ کی بے شمار برکات اور انعامات نازل ہوں ہمارے اس شہید پر جنہوں نے اس ظلم وستم کے دور میں مختلف اوقات اور مختلف مقامات میں مومنانہ شجاعت اور بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے جام شہادت پیا۔ہماری آئندہ نسلیں ان کی ذات پر فخر کریں گی اور ان کے کارنامے یاد کر کے اپنی محبت اور اخلاص کے پھول ان پر نچھاور کریں گی۔ان کی جدائی سے ہمارے دل غمگین اور ہماری آنکھیں نمناک ہیں۔مگر انہوں نے خدا تعالیٰ کی رہ میں اپنی جانیں قربان کر کے جو درجہ اور مرتبہ حاصل کر لیا ہے اس پر ہم ان کو مبارک باد کہتے ہیں۔نہ صرف ان کو بلکہ ان ماؤں کو بھی جنہوں نے ایسے بہادر اور خدا تعالیٰ کی خاطر فدا ہونے والے سپوت جنے ، ان باپوں کو بھی جن کے ہاں ایسے جوانمرد اور دلیر بچے پیدا ہوئے، ان بہنوں اور بھائیوں کو بھی جن میں وہ کھیلے کو دے اور پروان چڑھے، ان سہاگنوں کو بھی جن کے سہاگ ہمیشہ کی زندگی پاکر لازوال بنا گئے، ان بچوں کو بھی جن کی قدر و منزلت کو چار چاند لگا گئے۔وہ خود زندہ ہو گئے کیونکہ خدا تعالیٰ کا ان کے متعلق