تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 125 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 125

تاریخ احمدیت بھارت 109 جلد اوّل کھلا چھوڑ آیا تھا۔اگلے دن علی الصبح باہر نکلا تو کیا دیکھتا ہوں کہ قدم قدم پر انڈین آرمی کے سپاہی موجود ہیں۔مرہٹوں اور ڈوگروں کے یہ بڑے ہی سخت قسم کے آرمی یونٹ تھے جن کی خاص طور پر قادیان میں تقرری کی گئی تھی۔ان میں بہت سے سپاہی ایسے تھے جو مسلمانوں کے جانی دشمن تھے۔جلد ہی حکومت کی طرف سے یہ اعلان بھی کر دیا گیا کہ اسلحہ کی بازیافت کے سلسلے میں ایک ایک گھر کی تلاشی لی جائے گی۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارا مکان ہی ان اولین مکانوں میں سے تھا جو ان کے زیر نظر تھا اور جہاں سے انہوں نے اس تازہ ترین خانہ تلاشی کی ابتداء کی۔میں بے حد فکر مند تھا۔اس کی کئی وجوہ تھیں سب سے پہلے تو یہ کہ میرے کمرے کے فرش میں بندوقیں مدفون تھیں۔دوسرے میرے کمرے کی چمنی میں لگے ہوئے رائفل کے ریک تھے جہاں بندوقیں رکھی ہوئی تھیں اور یہ امر بھی خارج از امکان نہ تھا کہ اگر وہاں سے بندوقیں ہٹا بھی لی گئی ہوں تو پھر بھی مجبلت میں کوئی بندوق رہ نہ گئی ہو۔تیسرا فکر مجھے یہ تھا کہ میرے اپنے سونے کے کمرے میں کارتوس بھی خاصی تعداد میں موجود تھے۔جہاں میں چھروں کے سائز تبدیل کیا کرتا تھا۔الغرض تلاشی شروع ہوئی تو سپاہی سیدھے اس کمرے میں گئے جہاں بندوقیں مدفون تھیں اور جاتے ہی کمرے کے فرش کو کھودنا شروع کر دیا۔لیکن کچھ بھی تو نہیں ملا۔بندوقیں سب غائب تھیں۔میں خود بھی حیران تھا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ در حقیقت ہوا یوں اور جس کا مجھے بعد میں پتہ چلا کہ کچھ عرصہ پہلے ان مدفون بندوقوں کی کہیں اور اچانک ضرورت پڑ گئی تھی اور جب انہیں کمرے کا فرش کھود کر نکالا گیا تو میں وہاں موجود نہیں تھا بلکہ دوسری بندوقوں کو سنبھالنے کے لئے گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔یعنی میری غیر حاضری میں بندوقیں غائب ہو چکی تھیں۔یہ مخبری ہمارے ایک۔۔۔۔(غیر مسلم ) ہمسائے نے کی تھی جس نے میرے کمرے میں کھدائی کی آواز سن کر انڈین آرمی کو مطلع کر دیا تھا کہ کمرے میں کچھ دفن کیا جا رہا ہے۔کمرے کے فرش کی تلاشی کے بعد ناکام ہو کر سپاہیوں نے سیدھا میرے کمرے کی چمنی کا رخ کیا۔معلوم ہوتا ہے کہ اس۔۔۔(غیر مسلم ) خاتون نے واقعی فوج کو جابتایا تھا۔کہ ہم لوگ چمنی میں کچھ ردو بدل کر رہے ہیں۔چنانچہ ایک سپاہی چھت پر چڑھ کر چمنی میں اتر گیا۔لیکن وہاں بھی سوائے پچیس کارتوسوں کے ایک ڈبے کے کچھ نہ ملا۔چونکہ ہمارے پاس لائسنس تھا اس لئے قانونا ہمیں ان کارتوسوں کو رکھنے کا حق حاصل تھا۔یہ اور بات ہے کہ ان کو رکھنے کے لئے جس جگہ کا ہم نے انتخاب کیا تھا وہ انوکھی اور عجیب وغریب ضرور تھی۔اب سپاہی میرے سونے کے کمرے میں گئے جہاں میری میز کی دراز میں کارتوسوں کے ڈبے