تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 126 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 126

جلداول 110 تاریخ احمدیت بھارت پڑے تھے۔ایک سپاہی نے ایک دراز کو کھولا ایک ڈبہ اٹھایا اسے زور سے ہلا یا اور کہنے لگا۔اخروٹ ہیں اخروٹ اور دراز کو بند کر دیا۔بس صحیح معنوں میں یہی ایک نازک لمحہ تھا جس کا ان دنوں مجھے سامنا کرنا پڑا اگر چہ قادیان چاروں طرف سے حملہ آوروں میں گھرا ہوا تھا لیکن جہاں میری ڈیوٹی تھی وہاں کبھی براہ راست حملہ نہیں ہوا۔“ انہی دنوں صاحبزادہ طاہر احمد نے ایک خط میں جو انہوں نے اپنی آنٹی کو لکھا تھا اپنے اور اپنے ساتھیوں کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا:۔یہ قادیان کے دفاع کا معاملہ ہے ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہمیں اس خدمت کا موقع مل رہا ہے۔اس کے لئے ہم نہ صرف مرنے کے لئے تیار ہیں بلکہ موت کا خوف بھی دل سے نکال چکے ہیں۔بے شک ہم سخت خطر ناک حالات میں رہ رہے ہیں۔لیکن اس پر ہمیں کسی قسم کی گھبراہٹ یا افسوس نہیں ہے۔نہ ہی ہم سمجھتے ہیں کہ ہم کوئی بڑی قربانی دے رہے ہیں یہ جان تو اللہ تعالیٰ کی دین ہے۔جان دی دی ہوئی اسی کی ہے اور ہم تو یہ احساس تک دل سے نکال چکے ہیں کہ ہم اس دنیا میں کبھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے مل سکیں گے۔“ آگے چل کر آپ نے لکھا: کم و بیش ہر تین ہفتے کے بعد ہم میں سے کچھ لوگوں کو واپس جانے کے لئے فراغت مل جاتی ہے اور انہیں پاکستان بھیج دیا جاتا ہے۔یہ لوگ جنہیں یہاں سے واپسی کا حکم ملتا ہے۔وہ ساری رات اس غم میں رورو کر گزارتے ہیں کہ اب انہیں قادیان چھوڑ کر واپس جانا پڑ رہا ہے۔پھر فرماتے ہیں: 66 میں نے خط میں اتنا کھل کر اور لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کیا تھا اور میری آنٹی اس سے اتنا متاثر ہوئیں کہ وہ خط کی نقل جماعت احمدیہ کے اخبار روز نامہ الفضل کے ایڈیٹر صاحب کے پاس لے گئیں۔آنٹی کا خیال تھا کہ اخبار کے قارئین بہت شوق سے جاننا چاہیں گے کہ چاروں طرف سے خطرات میں گھرے ہوئے ایک سترہ اٹھارہ سالہ نوجوان کی سوچ کا انداز کیا ہے۔لیکن ایڈیٹر نے یہ کہہ کر خط چھاپنے سے انکار کر دیا کہ یہ خط تو بہت ہی بے لاگ اور بے باک ہے۔سالوں بعد جب میں اس خط کے مندرجات کو بالکل بھول چکا تھا۔آنٹی کو یہ خط ایک ڈبے میں پڑامل گیا۔انہوں نے مجھے دکھایا تو اپنے