تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 122 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 122

جلد اوّل 11 / ماہ نومبر 106 تاریخ احمدیت بھارت اس دن ایک مسلمان عورت مع اپنے دو بچوں کے موضع ظفر وال سے بھاگ کر آئی۔جس نے بتایا کہ وہاں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے قبضہ میں تھی۔کئی دن سے بھاگنے کا ارادہ کر رہی تھی۔آخر آدھی رات کے وقت بھاگ کے قادیان میں پناہ لینے کا موقعہ مل گیا۔اور اس کو کنوائے میں پاکستان بھجوادیا گیا۔ایک درد ناک سانحہ یہ دیکھنے میں آیا کہ اس روز نو دس سال کی ایک معصوم بچی قادیان کے ایک محلہ سے ملی جو قریباً دس دن سے وہاں پڑی تھی۔بے چاری کی صرف ہڈیاں رہ گئی تھیں ، جسم دوہرا ہو گیا تھا اور فاقوں نے اس کا دماغ مختل کر دیا تھا۔اس بچی کی خوراک اور علاج معالجہ کا انتظام کیا گیا۔(26) نسیم ملک کے وقت رونما ہونے والے واقعات از : حضرت خلیفہ المسح الرابع رحم الله تعالی جناب آئن ایڈم سن نے ایک کتاب بزبان انگریزی A MAN OF GOD کے نام سے تحریر کی ہے۔اس کا اردو ترجمہ محترم چوہدری محمد علی صاحب ایم۔اے نے ایک مرد خدا حضرت مرزا طاہر احمد امام جماعت احمدیہ (رحمہ اللہ تعالی ) کے عنوان سے رقم فرمایا ہے۔اس کتاب کے مصنف صاحب کی تحریر اور حضور کے فرمودات درج ذیل ہیں :۔نانچہ ہندوستان کی تقسیم کا عمل کچھ اس اذیت ناک طریقے سے شروع ہوا کہ ہمسایہ ہمسائے کا دشمن بن گیا۔کیا چھوٹا اور کیا بڑا، کوئی بھی محفوظ نہ رہا۔جگہ جگہ لوگ اپنے آپ کو مسلح کرنے لگے صاحبزادہ طاہر احمد ان دنوں خدام الاحمدیہ کے رکن تھے۔یہ نوجوانوں کی ایک اصلاحی تنظیم تھی۔نوجوانوں اور بچوں کی صرف اخلاقی اور روحانی تربیت اس کا مقصد تھا۔اس نئی صورت حال کے پیش نظر اسے قادیان کے دفاع کے لئے از سر نو منظم کیا گیا۔شہر کو مختلف سیکٹروں میں تقسیم کر دیا گیا اور اہل شہر کی کمپنی وار اور بٹالین وار گروہ بندی کی گئی تقسیم ہند کے وقت قادیان کے گرد و نواح سے کم از کم ستر ہزار مسلمان اپنا گھر بار چھوڑ کر قادیان میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے تھے۔تشدد پسند۔۔۔۔( شر پسند عناصر ) اور۔۔۔۔(مفسدہ