تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 123
تاریخ احمدیت بھارت 107 جلد اول پردازوں ) کے جنھوں نے چاروں طرف سے گھیرا ڈال رکھا تھا۔مسلمان کے خون سے ہولی کھیلی جارہی تھی۔آپ (حضرت مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ اسیح الرابع۔ناقل ) فرماتے ہیں: بندوق چلانا تو ہمیں بچپن ہی سے آتا تھا۔منظم طریقہ سے کام کرنے اور حکم ماننے کی عادت تو ہماری گھٹی میں داخل تھی یہی وجہ تھی کہ ہم اپنے دفاعی نظام کو مکمل کرنے میں نسبتا جلد کامیاب ہو گئے۔اس نظام میں کوئی درجہ بندی نہ تھی ہمیں اتنا بتا دیا جاتا تھا کہ فلاں شخص تمہارا افسر ہے اور بس۔بعد میں کچھ تربیت یافتہ فوجیوں نے بھی ہماری مدد کے لئے اپنی خدمات پیش کر دیں۔چنانچہ ان کو سیکٹر وار کمان سونپ دی گئی۔پھر ان کے ماتحت افسر مقرر کر دیئے گئے۔ہمیں صرف اتنا علم ہوتا تھا کہ ہمارا اپنا افسر کون ہے جس کے حکم کی تعمیل ہم پر فرض تھی۔ہم اور کسی کو نہیں جانتے تھے۔باقی افسران کا ہمیں کچھ علم نہیں ہونے پاتا تھا۔مقصد اس احتیاط کا یہ تھا کہ اگر ہم کبھی پکڑے جائیں اور ہم سے پوچھ گچھ کی جائے تو ہم بتا ہی نہ سکیں کہ ہمارے علاقے کا کمانڈرکون ہے۔دراصل اپنے تحفظ کے لئے یہ ایک بڑی موثر احتیاطی تدبیر تھی۔ویسے بھی افسری ماتحتی تو تھی ہی نہیں۔بس اتنا پتہ تھا کہ حکم کون دے گا اور کس کو دے گا۔“ صاحبزادہ طاہر احمد کھیل کے میدان میں اپنا لوہا منوا چکے تھے۔نشانچی بھی اچھے تھے۔اس لئے بلا تکلف ایک دستے کے انچارج مقرر ہو گئے۔جو کام ان کے سپر د ہوا وہ یہ تھا کہ کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں قادیان کے مرکزی حصے کی حفاظت ان کی ذمہ داری ہوگی۔فرماتے ہیں:۔وو یہ ایک بہت اہم اور بڑی ذمہ داری کا کام تھا لیکن میں اس مفوضہ ڈیوٹی پر بہت خوش بھی نہیں تھا۔میں جانتا تھا اور اب بھی سمجھتا ہوں کہ یہ سب کچھ مجھے زیر نگرانی اور قابو میں رکھنے کے لئے کیا گیا تھا تا کہ میں خواہ مخواہ اپنے لئے کوئی خطرہ مول نہ لے سکوں۔“ خطرے سے میری اپنی ذات کے لئے کسی قسم کا خطرہ مراد نہیں۔مراد یہ تھی کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ حملے کی صورت میں میں نوجوانی کے جوش میں بچاؤ کی بجائے براہ راست ٹکراؤ کو دعوت دے دوں۔اس لئے قادیان کی بیرونی سرحدوں پر جہاں خطرے کا زیادہ احتمال تھا مجھ سے بڑی عمر والوں کا تقرر کیا گیا اور مجھے شہر کے مرکز ہی میں رکھا گیا۔ذمہ داری تو بہر حال ذمہ داری تھی لیکن اس محدود ذمہ داری پر میں مطمئن نہیں تھا۔چنانچہ وہی کچھ ہوا جس کا مجھے اندیشہ تھا یعنی مجھے کسی دفاعی معرکے میں حصہ لینے کی حسرت ہی رہی۔لیکن یہ بھی نہیں کہ کچھ بھی نہ ہوا ہو۔خطرے کے الارم بھی ہوتے رہتے تھے۔کچھ دفاعی مشقیں بھی