تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 54 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 54

تاریخ احمدیت بھارت 49 جلد اول حقیقت نہیں کھلی۔ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ مجھے ایسی جگہ جانا چاہیئے جہاں سے دہلی وشملہ سے تعلقات آسانی سے قائم کئے جاسکیں اور ہندوستان کے وزراء اور مشرقی پنجاب کے وزراء پر اچھی طرح سب معاملہ کھولا جا سکے۔اگر ایسا ہو گیا تو وہ زور سے ان فسادات کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔اسی طرح لاہور میں سکھ لیڈروں سے بھی بات چیت ہو سکتی ہے جہاں وہ ضرورتاً آتے جاتے رہتے ہیں اور اس سے بھی فساد دور کرنے میں مددمل سکتی ہے۔ان امور کو مد نظر رکھ کر میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں چند دن کے لئے لاہور جا کر کوشش کروں۔شاید اللہ تعالیٰ میری کوششوں میں برکت ڈالے۔اور یہ شور وشر جو اس وقت پیدا ہو رہا ہے دور ہو جائے۔میں نے اس امر کے مد نظر آپ لوگوں سے پوچھا تھا کہ ایسے وقت میں اگر میرا جانا عارضی طور پر زیادہ مفید ہو تو اس کا فیصلہ آپ لوگوں نے کرنا ہے یا میں نے ، اگر آپ نے کرنا ہے تو پھر آپ لوگ حکم دیں تو میں اسے مانوں گا۔لیکن میں ذمہ داری سے سبکدوش ہوں گا۔اور اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہے، تو پھر آپ کو حق نہ ہو گا کہ چوں و چراں کریں۔اس پر آپ سب لوگوں نے لکھا کہ فیصلہ آپ کے اختیار میں ہے۔سو میں نے چند دن کے لئے اپنی سکیم کے مطابق کوشش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔آپ لوگ دعائیں کرتے رہیں اور حوصلہ نہ ہاریں۔دیکھو مسیح کے حواری کتنے کمزور تھے مگر مسیح انہیں چھوڑ کر کشمیر کی طرف چلا گیا۔اور مسیحیوں پر اس قدر مصائب آئے کہ تم پر ان دنوں میں اس کا سوواں حصہ بھی نہیں آئے۔لیکن انہوں نے ہمت اور بشاشت سے ان کو برداشت کیا۔ان کی جدائی تو دائمی تھی مگر تمہاری جدائی تو عارضی ہے۔اور خود تمہارے اور سلسلہ کے کام کے لئے ہے۔مبارک وہ جو بدظنی سے بچتا ہے اور ایمان پر سے اس کا قدم لڑکھڑاتا نہیں ، وہی جو آخر تک صبر کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کا انعام پاتا ہے۔پس صبر کرو اور اپنی عمر کے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے وفادار رہو۔اور ثابت قدمی اور نرمی اور عقل اور سوجھ بوجھ اور اتحاد و اطاعت کا ایسا نمونہ دکھاؤ کہ دنیا عش عش کر اٹھے۔جو تم میں سے مصائب سے بھاگے گا وہ یقینا دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب ہوگا۔اور خدا تعالیٰ کی لعنت کا مستحق۔تم نے نشان پر نشان دیکھے اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں کا منور جلوہ دیکھا ہے اور تمہارا دل دوسروں سے زیادہ بہادر ہونا چاہیئے۔میرے سب لڑکے اور داماد اور دونوں بھائی اور بھتیجے قادیان میں ہی رہیں گے۔اور میں اپنی غیر حاضری کے ایام میں عزیز مرزا بشیر احمد صاحب کو اپنا قائمقام ضلع گورداسپور اور قادیان کے لئے مقرر کرتا ہوں۔ان کی فرماں برداری اور اطاعت کرو اور ان