تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 53 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 53

جلد اوّل 48 ہجرت سے قبل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے دو اہم پیغام تاریخ احمدیت بھارت قادیان سے ہجرت کے متعلق تمام الہامات ورڈ یا کے پورا ہونے کا وقت قریب سے قریب آتا چلا جا رہا تھا۔اس تعلق سے تمام پیشگوئیاں حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب اصلح الموعود خلیفہ اسیح الثانی کے مبارک وجود کے ذریعہ پوری ہوتی ہوئی نظر آنے لگیں۔چنانچہ مؤرخہ 30 اگست 1947ء کو آپ نے جماعت احمد یہ قادیان اور ضلع گورداسپور کے نام درج ذیل الوداعی پیغام تحریر فرمایا۔اور بعض مصلحتوں کی بناء پر یہ ارشاد فرمایا کہ آپ کی قادیان سے ہجرت کے اگلے روز اسے سنادیا جائے۔پیغام کا متن درج ذیل ہے: (الف)۔پہلا پیغام اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم میں مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح الثانی تمام پریذیڈنشان انجمن احمد یہ قادیان و محلہ جات و دیہات ملحقہ قادیان ودیہات تحصیل بٹالہ تحصیل گورداسپور کو اطلاع دیتا ہوں کہ متعدد دوستوں کے متواتر اصرار اور لمبے غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام امن کے اغراض کے لئے مجھے چند دن کے لئے لاہور ضرور جانا چاہیئے۔کیونکہ قادیان سے بیرونی دنیا کے تعلقات منقطع ہیں اور ہم ہندوستان کی حکومت سے کوئی بھی بات نہیں کر سکے۔حالانکہ ہمارا معاملہ اس سے ہے لیکن لاہور اور دہلی کے تعلقات ہیں۔تار اور فون بھی جاسکتا ہے۔ریل بھی جاتی ہے اور ہوائی جہاز بھی جاسکتا ہے۔میں مان نہیں سکتا کہ اگر ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال صاحب پر یہ امر کھولا جائے کہ ہماری جماعت مذہباً حکومت کی وفادار جماعت ہے تو وہ ایسا انتظام نہ کریں کہ ہماری جماعت اور دوسرے لوگوں کی جو ہمارے ارد گر درہتے ہیں حفاظت نہ کی جائے۔جہاں تک مجھے معلوم ہے بعض لوگ حکام پر یہ اثر ڈال رہے ہیں کہ مسلمان جو ہندوستان میں آئے ہیں ہندوستان سے دشمنی رکھتے ہیں۔حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں اپنے جذبات کے اظہار کا موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ادھر اعلان ہوا اور اُدھر فساد شروع ہو گیا۔ورنہ کس طرح ہوسکتا تھا کہ مسلمان مسٹر جناح کو اپنا سیاسی لیڈر تسلیم کرنے کے باوجودان کے اس مشورہ کے خلاف جاتے کہ اب جو مسلمان ہندوستان میں گئے ہیں انہیں ہندوستان کا وفادار رہنا چاہئیے۔غرض ساری غلط نہی اس وجہ سے پیدا ہوئی کہ یکدم فسادات ہو گئے اور صوبائی حکام اور ہندوستان کی حکام پر