تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 380 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 380

تاریخ احمدیت بھارت 349 جلد اول رکھتے تھے اور ان کی چھتوں پر رات کو پہرہ دے کر نگرانی کا فرض ادا کرتے تھے۔بہشتی مقبرہ کو اندر جانے لئے گیٹ کی مشرقی دیوار میں اب بھی نشان موجود ہے۔یہ گیٹ درویشی سے قبل موجود تھا۔دیوار نہیں تھی۔دیوار کی جگہ تھوہر کی باڑ لگی ہوئی تھی۔دیوار کی تکمیل کے بعد آج کل جہاں نذیر احمد صاحب ٹیلر کا مکان ہے اس کے سامنے بہشتی مقبرہ میں داخل ہونے کے لئے ایک راستہ بنایا گیا تھا۔یہ رستہ مغرب کی طرف آکر اور گھوم کر فوارہ والی جگہ تک آتا تھا۔مزار مبارک والی چار دیواری کے شمال مشرقی کو نہ پر بھی ایک دو منزلہ کمرہ برائے پہرے داران تعمیر کیا گیا تھا۔باقی حصہ بڑے باغ کی طرف کھلا تھا۔ادھر سے ہر وقت آمد و رفت ہو سکتی تھی۔اس طرف سے متعدد۔۔۔۔۔( شر پسندوں) نے دخل اندازی کی کئی دفعہ کوشش کی جو وقت پر ضروری اقدام کر کے ناکام بنا دی گئی۔(38) غرض درویشان کرام کی مسلسل اور کڑی محنت اس دیوار کے بنانے میں ہوئی۔درویشان کرام خود بتا یا کرتے تھے کہ تقریباً 6،5ماہ میں یہ دیوار مکمل ہوئی۔پھر اسکی لپائی بھی کی گئی۔اور اس طرح بہشتی مقبرہ کی حفاظت کے لئے یہ احتیاطی تدبیرا اپنی تکمیل کو پہنچی۔سات سال یہ دیوار قائم رہی اور ہر سال ساون بھادوں کی زبر دست برساتوں کی مار سہتی رہی۔اور بارشوں کے بعد جہاں ضرورت ہوتی اس کی لپائی اور مرمت کر دی جاتی۔اور بالفعل یہ ان مخدوش حالات میں حفاظت کا بہترین ذریعہ ثابت ہوئی۔1955ء میں مشرقی پنجاب میں زبر دست سیلاب آ گیا۔کئی روز تک مسلسل بارشیں ہوتی رہیں اور کئی ماہ تک بہشتی مقبرہ اور اس کے گردو نواح میں پانی کھڑا رہا۔جس کے نتیجے میں اس دیوار کو سخت نقصان پہنچا۔اور یہ دیوار بہت سے مقامات سے گرگئی۔ایسی صورت حال میں صدر انجمن احمدیہ نے اس کچی دیوار کی جگہ پختہ چار دیواری بنانے کا فیصلہ کیا اور کم و بیش 35 / ہزار روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔اس دیوار کے بارے میں محترم چوہدری فیض احمد صاحب گجراتی درویش سابق سیکرٹری بہشتی مقبره تحریر فرماتے ہیں کہ محلہ احمدیہ سے بہشتی مقبرہ کی طرف جائیں تو ڈھاب کے پل کے پاس پہنچ کر ایک بلند اور مضبوط اور طویل دیوار نظر آتی ہے جو ڈھاب سے شروع ہو کر تکیہ پیر شاہ چراغ تک بطرف منگل چلی گئی ہے اور وہاں سے مغرب کی طرف مڑ کر سارے بڑے باغ کے گردا گرد ہوتی ہوئی ڈھاب کے کنارے