تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 379 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 379

جلد اوّل 348 تاریخ احمدیت بھارت حضرت مولانا عبد الکریم صاحب کی تدفین کے ساتھ ہوا تھا۔مگر حضور کی منشاء کے مطابق اس کی چاردیواری کا کام معرض التواء میں رہا۔یہاں تک کہ تقسیم ملک اور ہجرت کا زمانہ آ گیا۔15 اگست 1947ء کے بعد شر پسند عناصر کی یہی کوشش رہی کہ کسی طرح بہشتی مقبرہ پر قبضہ کر لیا جائے۔کیونکہ وہ یہ سمجھے تھے کہ اگر بہشتی مقبرہ باقی شہر کی طرح جماعت احمدیہ کے قبضہ سے نکل کر ہمارے قبضہ میں آجائے گا تو احمدیوں کی ہمتیں پست ہو جائیں گی اور وہ قادیان چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔بہشتی مقبرہ اور محلہ احمدیہ کے درمیان قادیان میں موجود وسیع اور گہری ڈھاب تھی اور اس کے اوپر ایک پل تو تھا مگر وہ بھی زیادہ چوڑ نہیں تھا۔اس وجہ سے بہشتی مقبرہ بالکل الگ تھلگ ہو جاتا تھا۔اور ہمیشہ یہ خطرہ رہتا تھا کہ دشمنان احمدیت کسی وقت بھی اس پر حملہ کر کے پچاس ساٹھ محافظین کوموت کے گھاٹ اتار کر قبضہ کر لیں گے۔بایں وجہ جماعت کے وہ منتظمین جن کو دفاعی سمجھ بوجھ تھی اور فوج کے تربیت یافتہ تھے انہوں نے باہمی مشورہ کیا اور وسائل کے نہ ہونے کے باوجود کم و بیش اٹھارہ ایکٹر پر مشتمل وسیع رقبہ بہشتی مقبرہ کے ارد گردمٹی کی کچی چار دیواری بنانے کا فیصلہ کیا۔اور مورخہ 13 دسمبر 1947ء کو کیپٹن شیر ولی صاحب نگران حفاظت قادیان کے زیر نگرانی دیوار کی تعمیر کا پہلا مرحلہ شروع ہوا۔اس دیوار کی تعمیر کا نقشہ کھینچتے ہوئے محترم چوہدری بدر الدین صاحب عامل درویش مرحوم لکھتے ہیں: یہ حفاظتی دیوار جنوب کی طرف سے شروع کی گئی۔جنوبی دیوار کی موٹائی 5 فٹ اور اونچائی بہشتی مقبرہ کی اندر کی طرف سے 6 فٹ اور باہر کی طرف سے ساڑھے آٹھ فٹ تھی کیونکہ بہشتی مقبرہ کا بیرونی حصہ اندرون کی نسبت نشیبی تھا۔اس طرح پھر جب مشرقی جانب کی دیوار بنانا شروع کی چونکہ مٹی دور سے لانا پڑتی تھی۔اس کی موٹائی 2 فٹ تھی اور اونچائی اتنی ہی رکھی گئی۔مغربی جانب کی دیوار کو سید نا حضرت مسیح موعودؓ کے مکان سے جو بڑے باغ سے ملحق ہے کے ساتھ ملا دیا گیا۔اس کی موٹائی بھی دوفٹ اور اونچائی باقی دیواروں کے برابر ہی رکھی گئی تھی۔ایک محتاط اندازے کے مطابق ان دیواروں کے بنانے میں 6لاکھ کیوبک فٹ مٹی استعمال ہوئی۔اس کے لئے مٹی جنوبی کھیتوں سے بلا معاوضہ کھو دکر حاصل کی گئی اور یہ سارا کام درویشوں نے ایک پیسہ خرچ کئے بغیر صرف اپنی محنت سے انجام دیا تھا۔نیز دیوار کے جنوب مشرقی اور جنوب مغربی کونوں پر ایک ایک دو منزلہ کمرہ بھی تعمیر کئے گئے۔جس میں پہرہ دار درویشان رہائش