تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 308 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 308

تاریخ احمدیت بھارت 277 جلد اول چنانچہ حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر جگہ خالی کروانی شروع کی یعنی پہلے فوجیوں نے اور پولیس نے یہ کام شروع کیا اور وہ لوگ جو مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تھے یعنی مغربی حصہ سے جو احمدیوں والا حصہ تھا مشرقی اس میں منتقل ہو گئے اس وقت معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس عورتیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئیں ہیں۔و بعض افسران ان کو نکلوانے کے لئے گلی کے سرے پر موجود مکان تھا وہاں پہنچے اور ان کے نکالنے کے لئے دو نو جوانوں کو بھیجا وہاں پھٹے لگا کر ایک عارضی پل بنالیا جایا کرتا تھا تو پھٹوں پر سے یہ گزر کر گئے ہیں، یہ نوجوان جس وقت گلی پار کرنے لگے تو سامنے کی چھتوں سے پولیس نے ان پر بے تحاشہ گولیاں چلا دیں اور وہ لوگ واپس گھر آنے پر مجبور ہو گئے۔تب لکڑی کے تختے منگوا کر ، یہ غالباً لکڑی کے تختے منگوائے گئے ہیں پہلے نیچے سے جانے کی کوشش کی ہوگی عام گلی میں سے لیکن وہاں وہ عین لوگوں کے نشانے میں تھے اور خطرہ تھا کہ شاید کوئی بھی بچ نہیں سکے گا۔اس لئے اس کے بعد جو ترکیب سوجھی کسی کو کہ لکڑی کے پھٹے لگائے جائیں اور بہت تیزی سے چھلانگ لگا کر ان پھٹوں پر سے گزرجائیں۔دونو جوان اس کام کے لئے گئے تھے یعنی دو نو جوانوں نے پیش کیا کہ ہمیں بھیجیں پھٹوں کے اوپر سے ہم انشاء اللہ جا کر احمدی خواتین کو نکال لائیں گے۔ان میں ایک غلام محمد صاحب ولد مستری غلام قادر صاحب سیالکوٹی تھے اور دوسرے عبدالحق نام قادیان کے تھے جو احمدیت کی طرف مائل تو تھے اور احمدی مجاہدین کے ساتھ خدمت میں بھی بھر پور حصہ لے رہے تھے مگر ابھی جماعت میں شامل نہیں تھے۔یہ دونوں نو جوان برستی گولیوں میں سے پھٹے پر سے کودتے ہوئے اس مکان میں چلے گئے جہاں چالیس عورتیں موجود تھیں۔انہوں نے ایک ایک عورت کو کندھے پر اٹھا کر تختے پر ڈالنا شروع کیا اور مشرقی مکان والوں نے انہیں کھینچ کر اپنی طرف لانا شروع کیا۔جب وہ اپنے خیال میں سب عورتوں کو نکال چکے اور خود واپس آگئے اور محفوظ تھے تو معلوم ہوا کہ انتالیس عورتیں آئی ہیں اور ایک نہیں آئی حالانکہ یہ یقینی خبر تھی کہ چالیس عورتیں ہیں۔ایک بڑھیا عورت جو گولیوں کے ڈر کے مارے ایک کونے میں چھپی ہوئی تھی وہ وہیں رہ گئی۔اب ایسے موقع پر انسان کہہ سکتا ہے کہ انتالیس آگئی ہیں ٹھیک ہے۔اب اپنے جوانوں کو خطرے میں کیوں ڈالیں بڑھیا عورت ہے ویسے ہی مرنے کے قریب