تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 309
جلداول 278 تاریخ احمدیت بھارت ہے اس کو وہیں چھوڑ دیں۔مگر وہ وقت ایسا تھا جب کہ احمدی مجاہدین ہر قربانی کے لئے تیار تھے۔چنانچہ اس وقت ان دونوں نوجوانوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔غلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب سیالکوٹی اور اسی طرح ان کے علاوہ عبد الحق صاحب، یہ دو تھے جنہوں نے کہا کہ ہم جاتے ہیں فکر نہ کریں۔چنانچہ غلام محمد صاحب ولد میاں غلام قادر صاحب جب یہ دوڑے ہیں تختے پر سے اس طرف سے بڑھیا کو ڈھونڈنے کے لئے تو جاتے ہوئے سامنے سے ان کے پیٹ میں گولی لگی اور بہت گہرا زخم آیا انتریوں کو چیرتی ہوئی نکل گئی۔لیکن بڑے ہمت والے بڑے مضبوط جوان تھے۔انہوں نے ایک ہاتھ سے اپنے پیٹ کو سنبھالا اور پھر بھی جا کر اس بڑھیا کو نکالنے کی کوشش کرنے کے لئے اندر چلے گئے لیکن توفیق نہ مل سکی اور وہاں دروازے پر دوسری طرف اسی کمرے میں گر گئے۔اس پر وہ جو غیر احمدی دوست تھے عبدالحق صاحب انہوں نے کہا اب میں جاتا ہوں چنانچہ وہ بھی گئے اور انہوں نے بڑھیا کو نکال لیا اور جب وہ دونوں واپس آنے لگے تو ان کی پیٹھ پر گولی لگی اور وہ بھی شہید ہو گئے۔ان دو واقعات میں ایک عجیب بات بھی مضمر ہے جس سے قبولیت دعا کا بھی پتہ چلتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کس طرح بار یک بار یک اشاروں سے اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ میں اپنے بندوں کی دلی آرزوؤں کو پوری کیا کرتا ہوں۔وہ واقعہ یہ ہے کہ ہسپتال تو نہیں تھا جس جگہ بھی انہیں لے جایا گیا وہاں عارضی طور پر طبی امداد مہیا کی گئی تھی لیکن چونکہ اندر کا زخم بہت زیادہ گہرا تھا اور نا قابل علاج تھا اس لئے ان کے بچنے کا کوئی سوال نہیں تھا۔مگر آخر وقت تک ہوش قائم رہی۔اس وقت انہوں نے جو عیادت کے لئے پاس بیٹھے ہوئے تھے ان کو بتایا کہ مجھے اسلام اور احمدیت پر پکا یقین ہے۔تم گواہ رہو کہ میں اپنے ایمان پر قائم رہتے ہوئے جان دے رہا ہوں۔یہ واقعات بھی ایسے ہیں جو اسلام کی عظیم پرانی تاریخ کو زندہ کرنے والے اور اس کو دکھانے والے واقعات ہیں۔صحابہ مرتے وقت دوسروں کو گواہ کر دیا کرتے تھے گواہ رہو کہ ہم اسی دین پر جان دے رہے ہیں۔پھر انہوں نے ایک اور بات بیان کی۔کہتے ہیں میں اپنے گھر سے اسی لئے نکلا تھا کہ میں اسلام کے لئے جان دوں گا۔آپ لوگ گواہ رہیں کہ میں نے اس مقصد کے لئے جان دی ہے۔جب میں گھر سے چلا تھا تو میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ بیٹا دیکھنا پیٹھ نہ دکھانا۔اب اس بات میں بہت گہرا راز مضمر ہے جو شاید ایسے ذہنوں میں نہ ابھرے کہ ان کو سامنے گولی لگی ہے پیٹھ پیچھے نہیں لگی اور جو غیر احمدی تھے ان کو پیٹھ پیچھے گولی لگی۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ فرق کر کے دکھا دیا کہ ایک کی ماں کی دعا تھی سامنے سے مار کھانا، پیٹھ نہ