تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 307 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 307

جلد اوّل 276 تاریخ احمدیت بھارت انشاء اللہ ان کے متعلق تفصیلی معلومات مزید مہیا کر دیں گے۔ملک حمید صاحب کے متعلق جو کچھ معلوم ہے وہ یہ ہے کہ مکرم ملک بشیر احمد صاحب کنجاہی کے فرزند اور جناب ملک غلام فرید صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ ایم۔اے کے رشتہ میں بھیجے تھے۔آپ کو ملٹری نے پکڑا اور ہائی سکول قادیان کے پیچھے لے جا کر گولی مار کے شہید کر دیا۔مکرم ماسٹر عبدالعزیز صاحب شہید ایک شہید کا نام ماسٹر عبدالعزیز ہے۔ان کے متعلق بھی تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں۔لیکن جو معلوم ہیں مختصری وہ میں بیان کر دیتا ہوں۔آپ منگل باغبان متصل قادیان کے رہنے والے تھے۔لاہور سے واپس آرہے تھے قادیان نہیں پہنچ سکے۔یہ لاہور سے اسی غرض سے واپس آرہے تھے کہ حضرت مصلح موعود کا حکم تھا کہ قادیان والے قادیان نہ چھوڑ ہیں۔یہ باوجود اس کے کہ باہر محفوظ جگہ پہنچ چکے تھے پھر بھی قادیان واپسی کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ان کے متعلق یقینی طور پر پتہ نہیں چل سکا کہ کیسے شہید ہوئے مگر جب کچھ عرصہ غائب رہے تو روایت یہ بیان کی جاتی ہے کہ بٹالہ میں ان کو شہید کیا گیا۔ماسٹر عبدالعزیز صاحب کسی وقت مدرسہ احمدیہ میں مدرس بھی رہے ہیں۔مکرم غلام محمد صاحب شہید اور مکرم عبد الحق صاحب شہید اب دو ایسی شہادتیں ہیں جن کا ذکر خصوصی طور پر حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے مضمون ” قادیان کی خونریز جنگ میں کیا ہے۔حضرت مصلح موعودؓ نے ان الفاظ میں یہ ذکر کیا کہ قادیان کے مرکزی حصہ پر جو حملہ ہوا اس میں ایک شاندار واقعہ ہوا۔بہت سے واقعات میں اس واقعہ کو خصوصیت کے ساتھ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک شاندار واقعہ بیان کیا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ قرون اولیٰ کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے۔” جب حملہ کرتے وقت پولیس اور۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) شہر کے اندر گھس آئے اور شہر کے مغربی حصہ کے لوگوں کو مار پیٹ کر خالی کرانا چاہا اور وہ لوگ مشرقی حصہ میں منتقل ہو گئے تو معلوم ہوا کہ گلی کے پار ایک گھر میں چالیس صورتیں جمع تھیں وہ وہیں رہ گئی ہیں" ہمارے مغرب میں ہندوؤں کے محلے تھے اور وہیں احمدی بھی پہلے آباد ہوا کرتے تھے۔تو جب یہ خطرہ ہوا تو احمدیوں کو محفوظ جگہ پہنچانے کا وقت کسی طرح نہ مل سکا اور وہیں بعض گھروں میں وہ اکٹھے ہو گئے اور حسب توفیق والنٹیئر زان کو لے کے آتے رہے۔یہ پس منظر ہے جس میں یہ واقعہ ہوا ہے۔