تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 274 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 274

تاریخ احمدیت بھارت 245 جلد اول قادیان کو فنا کرنے کے لئے ہے۔العیاذ باللہ۔تم لوگوں کے کھانے کی تکلیف کا علم بھی ہوا اللہ تعالیٰ ہی اسکا علاج کرسکتا ہے۔ڈی سی گورداسپور نے مظفر سے وعدہ کیا تھا کہ خود جا کر قادیان کے حالات دیکھے گا۔مگر معلوم نہیں کہ گیا یا نہیں اور کچھ کیا یا نہیں۔جنرل کر یا پا نائب کمانڈر انچیف کو آج ملے۔اس نے یہ ظاہر ہمدردی کا اظہار کیا اور اس کے رویہ سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ خود بھی شاید قادیان جائے۔ابھی اطلاع ملی ہے کہ قادیان کو ریفیو جی کیمپ بنانے کے لئے دہلی کو دونوں حکومتوں کے نمائندے وائرلیس کر رہے ہیں۔اگر ایسا ہو تو شاید مسلمان ملٹری بھی لگ جائے اور کم سے کم حکومت کی ذمہ داری ہی بڑھ جائے اور غذا کی ذمہ داری بھی بڑھ جائے۔بہر حال استقلال سے جمے رہو۔جب تم لوگ خدا کی راہ میں شہید ہونے کے لئے بیٹھے ہو تو پھر خوف کو دل میں آنے دینے کے معنے ہی کیا ہوئے۔جو شخص خدا تعالیٰ کے راستہ میں قربان ہونے کے لئے بیٹھا ہوا سے پھر کسی قسم کے انجام کا ڈر نہیں ہوتا۔کیونکہ موت کے بعد اور کونسا خطرہ رہ جاتا ہے مجھے تو صرف عورتوں کی فکر ہے خدا کرے عورتوں کی عزت محفوظ رہے۔مجھے یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اپنے حوصلے کو بلند رکھو۔اگر دین کی اشاعت کا خیال نہ ہوتا اور مجھ سے اشاعت اسلام کا کام وابستہ نہ ہوتا تو میں تم لوگوں کو باہر بھجوا دیتا اور آپ تم لوگوں کی جگہ وہاں کام کرتا۔کربلا کا واقعہ یادرکھو اور سب دوستوں کو یاد کراؤ۔کس طرح رسول کریم صلی یتیم کے سب خاندان نے بھوکے پیاسے رہ کر ثابت قدمی سے آخر دم تک لڑائی کی اور سب نے جان دیدی۔تمہارا خطرہ ان کے برابر نہیں۔آخر یہ سلسلہ خدا تعالیٰ کا ہے اور وہ ضرور اپنی قدرت دکھائیگا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے۔يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا - شاید یہ وہی ابتلاء ہے۔اللہ تعالیٰ اس ابتلاء میں ڈال کر ہمارے خاندان کے گناہوں کو جو بہت بڑے ہیں معاف کر دے گا۔یا شہادت دیکر انکو دھو دے گا۔اور آئندہ سلسلہ کی زندگی کا اسے ایک ذریعہ بنادے گا۔ہم لوگ بھی خطرہ سے باہر نہیں۔پاکستان سخت خطرہ میں ہے اور اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ آئندہ کیا ہوگا۔اور یہ کہ کہیں کچھ عرصہ کے لئے احمدیت کا مرکز ہندوستان سے باہر تو نہیں لے جانا پڑیگا۔مگر اس صورت میں شاید مجھے بھی شہادت کا ہی راستہ اختیار کرنا پڑیگا۔اور شاید بقیہ کام اللہ تعالیٰ کسی اور سے لے۔