تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 273
جلد اوّل 244 تاریخ احمدیت بھارت مؤرخہ 14 اکتوبر کو مجسٹریٹ صاحب نے مکرم مولوی عبد الرحمن صاحب فاضل جٹ سے کہا آپ لوگوں کو چاہیے کہ باہر ریفیوجی کیمپ میں آجائیں۔کیونکہ مسجد مبارک کے حلقہ میں خون خرابہ کا اندیشہ ہے۔اسی دن بعض باوثوق ذرائع سے یہ خبر بھی ملی کہ انچارج صاحب چوکی نے ایک صوبیدار سے کہا ہے کہ پہلے شہر کی پرانی آبادی کو خالی کرانا چاہیے تھا پھر دوسرے محلوں کو۔دوسرے محلوں کو پہلے خالی کرانے میں ہم نے غلطی کی ہے۔مؤرخہ 18 اکتوبر کو مجسٹریٹ صاحب علاقہ کے جوش غضب کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے بعض احمدیوں سے کہا کہ آج رات خدا نے مجھے کہا ہے کہ ان کو قادیان سے نکال دو، ان کو یہاں نہ رہنے دو۔اگر وہ رہ گئے تو بہت خطرہ ہے۔‘ (26) قادیان میں مقیم اپنے جسمانی اور روحانی بچوں کے نام حضرت الصلح الموعود کا درد بھرا پیغام قادیان کے دردانگیز حالات کا علم جیسے جیسے سیدنا حضرت اصلح الموعود " کولاہور میں ہوتا رہا آپ المصلح کی فکر اور کوششوں میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔آپ نے غالباً 10 اکتوبر 1947ء کو قادیان میں مقیم احباب جماعت کے ثابت قدم رہنے اور ان کے دلوں میں قربانی کا جذبہ تازہ رکھنے کی خاطر لاہور سے ایک درد بھرا پیغام قادیان بھجوایا جس کا مکمل متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔وو پیارے بچو! بسم الله الرحمن الرحیم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاته تم لوگوں کا پیغام محمد عبد اللہ لا یا۔قادیان کے خطرناک حالات معلوم ہوئے تم لوگوں کو یہ غلطی لگی ہوئی ہے کہ گویا ہم کچھ کر سکتے ہیں لیکن کرتے نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ ہم بھی اور حکومت بھی بے بس ہیں۔اب سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔وہی کچھ کرے گا تو کرے گا۔ہم نے دو کنوائے بھجوائے تھے ایک چوبیس ٹرک کا اور ایک تینتیس کا۔اگر وہ آجاتے تو قریباً سب عورتیں نکل آتیں۔پھر تمہارا بوجھ ہلکا ہو جاتا۔مگر انکو بٹالہ سے واپس کر دیا گیا اور ایک قافلہ پر حملہ بھی کیا گیا۔کوئی سو آدمی مارا گیا۔سپاہی بھی کچھ مارے گئے۔اصل میں ہم تو اسی وقت سمجھ گئے تھے کہ یہ روک