تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 199
جلد اوّل 170 تاریخ احمدیت بھارت حواشی باب چهارم یعنی مرزا عبد الحق صاحب ایڈووکیٹ امیر جماعت احمد یہ گورداسپور جو حضرت شاہ صاحب کے ساتھ 5 ستمبر (1947ء) کو قادیان پہنچ گئے۔مرزا صاحب موصوف نے وہاں مسلم پناہ گزینوں کو پاکستان بھجوانے کی قابل قدر خدمات انجام دی تھیں۔بلکہ عین اسی روز گورداسپور سے مسلمانوں کا آخری قافلہ جو تیرہ ہزار نفوس پر مشتمل تھا روانہ ہو چکا تھا اور آپ یہ خدمت پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد قادیان تشریف لائے تھے۔آپ کو گورداسپور کیمپ کے احمدی پناہ گزینوں کی امداد کے بھی متعدد مواقع ملے۔-2 -3 ( بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 151 152 مطبوعہ 2007ء) بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 151 152 مطبوعہ 2007ء چوہدری صاحب 21 اکتوبر 1947ء کو گورداسپور جیل سے رہا ہو کر 23 /اکتوبر کی شام کو سیالکوٹ پہنچے اور 24 اکتوبر کو لاہور آئے۔آپ اپنے ساتھ گورداسپور جیل سے حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور چوہدری شریف احمد صاحب باجوہ کے خطوط جو سیدنا امیر المؤمنین حضرت خلیفۃ اسیح الثانی اصلح الموعود کے نام تھے اپنے ہمراہ لائے جن سے ان کے کوائف کا علم ہوا۔( بحوالہ حاشیہ تاریخ احمدیت جلد 10 رصفحہ 156 مطبوعہ 2007ء) -4 _5 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 152 تا 157 مطبوعہ 2007ء جمعدار صاحب مرحوم احمد یہ کمپنی 8 / 15 پنجاب رجمنٹ سے جنوری 1947ء میں فارغ ہوئے اور قادیان تشریف لے آئے تھے۔25 اگست 1947ء کو آپ نے حفاظت سلسلہ کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔26 راگست کو جناب شیر ولی صاحب کے حکم سے صوبیدار عبدالمنان صاحب دہلوی ، عبد السلام صاحب سیالکوٹی، حوالدار میجر محمد یوسف صاحب گجراتی محمد اقبال صاحب عبد القادر صاحب کھارے والے ، غلام رسول صاحب سیالکوٹی، فضل احمد صاحب اور عبدالغفار صاحب کے ہمراہ سٹھیالی روانہ کئے گئے جہاں۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) نے رائفل ہٹین گن، برین گن اور گرنیڈ 36 کا بے دریغ استعمال کیا۔جمعدار محمد اشرف صاحب اور صو بیدار عبدالمنان صاحب دہلوی اور محمود احمد صاحب عارف تینوں بڑی بہادری دلیری اور جرات سے دفاع کر رہے تھے کہ یکا یک برین گن کا ایک برسٹ جمعدار محمد اشرف صاحب کے سر پر لگا اور آپ اپنے مولائے حقیقی کے حضور پہنچ گئے۔اس معرکہ میں صوبیدار عبدالمنان صاحب زخمی ہوئے اور آپ کے سینے اور منہ پر گولیاں لگیں اسی طرح فضل احمد صاحب کے گھٹنے میں مشین گن کی گولی پیوست ہو گئی جو