تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 198
تاریخ احمدیت بھارت 169 جلد اول حیرت کن واقعات ایک دوسرے کو سناتے۔خاکسار کو اپنے والد صاحب کے ساتھ ایسی مجالس میں حاضر ہوکر واقعات سنے کا موقعہ ملتا رہا۔اسی موقعہ پر ایک دن سابقہ صو بیدار مولوی برکت علی صاحب درویش مرحوم نے بتایا کہ ستمبر 1947ء کے دوسرے ہفتہ میں موضع کھارا مفسدہ پردازوں اور ان کی قیادت کرتے ہوئے سول لباس میں عسکری اہل کاروں کے محاصرے میں تھا۔اور سب سے بڑا خطرہ احمدی خواتین کے اغوا اور بے حرمتی کا تھا۔لہذا قادیان کی انتظامیہ نے پہلے مرحلے میں عورتوں کو وہاں سے بحفاظت نکال کر تعلیم الاسلام کالج میں لانے کے لئے سابقہ فوجی نوجوانوں کی ایک ٹیم ستمبر 1947ء کے دوسرے ہفتہ میں موضع کھارا کے لئے رات کی تاریکی میں روانہ کی۔ان کی قیادت مکرم برکت علی صاحب درویش کر رہے تھے اور ان کے ساتھ مکرم چوہدری عبد السلام صاحب درویش ، مکرم فضل الہی صاحب گجراتی درویش اور بعض اور ایسے نوجوان تھے جو بعد میں قادیان سے ہجرت کر گئے۔شاید بارشوں کی وجہ سے کچے راستوں اور کھیتوں میں پانی بھرا ہوا تھا۔جب یہ گاؤں کی طرف بڑھ رہے تھے پانی میں قدموں کی آہٹ سنتے ہی مفسدہ پردازوں نے ان پر گولیوں اور دستی بموں کی بوچھاڑ کر دی۔یہ احمدی نوجوان اپنی سابقہ عسکری مشق کے مطابق پانی اور کیچڑ میں لپٹ گئے اور مفسدہ پردازوں نے یہ خیال کیا کہ یہ سب ان کی گولیوں کا نشانہ بن کر ابدی نیند سو گئے ہیں۔لیکن جب مفسدہ پردازان کے قریب پہنچے اور ان کے ہتھیاروں کو لینے کی کوشش کی اور ان کو اپنے پاؤں کی ٹھوکروں سے مارنے لگے اور انکی جان پر بن آئی تو انہوں نے اپنے دفاع میں اپنے پاس موجود رائفلوں سے زبر دست فائرنگ کی اور مفسدہ پردازوں کے محاصرے کو توڑ کر گاؤں کی تمام مسلم اور احمدی خواتین اور بزرگوں کو بحفاظت تعلیم الاسلام کا لج لیکر آگئے اور گاؤں میں باقی رہنے والے احمدی افراد کے لئے چوہدری عبد السلام صاحب درویش وہاں مقیم رہے۔ستمبر 1947ء کے تیسرے ہفتے موضع کھارا کو احمدی و مسلم آبادی سے زبر دستی کلیۂ خالی کروالیا گیا۔تاریخ احمدیت میں اس انخلاء کا ذکر درج ذیل الفاظ میں موجود ہے: 18 ستمبر 1947ء کو قادیان۔۔۔۔ملٹری نے مفسدہ پردازوں کو اسلحہ دے کر موضع کھارا میں بھیجا اور مسلمانوں کو زبر دستی وہاں سے نکلوادیا۔اور کوئی چیز نہیں لانے دی۔ان کا آٹا وغیرہ بھی راستے میں چھین لیا، اور ان کے مکان تباہ و برباد کر دیئے۔(49) اس معرکہ میں احمدیوں کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اور تمام خواتین باعزت اور باحفاظت قادیان پہنچ گئیں۔الحمدللہ علی ذلک۔