تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 174 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 174

جلد اوّل 158 تاریخ احمدیت بھارت نور محمد کا اس علاقہ میں اچھا اثر و رسوخ تھا۔35-40 آدمی گاؤں والوں کے مہمان تھے۔کئی ارد گرد کے دیہات سے مسلمان گھرانے۔۔۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں ) کے ڈر سے اپنے گھر خالی کر کے تلونڈی جھنگلاں میں آگئے تھے۔اور یہاں کی آبادی دن بدن بڑھ رہی تھی۔ارد گرد کے دیہات میں۔۔۔۔۔۔۔(مفسده پردازوں ) کو پتہ تھا کہ تلونڈی جھنگلاں میں فوجی پلٹن رہتی ہے اور اس کے پاس بڑا اسلحہ ہے۔لہذا وہ ڈرتے تھے اور کسی کو حملہ کرنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔ہماری جماعت کا بھی یہی منشا تھا کہ جب تک قادیان کے ارد گرد کے دیہات مضبوط ہونگے ، قادیان کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ہمارے جانے کے بعد یہ مسئلہ پیدا ہو گیا کہ 140افراد کا کھانے کا کون انتظام کرے اور راشن کدھر سے آئے۔پہلے تو دو چار افراد تھے تو گزارہ ہو جاتا تھا۔مگر اب خاصی تعداد تھی ان لوگوں کے لئے تو پورا لنگر خانہ درکار تھا اور راشن بھی چاہئے تھا۔گاؤں کے احمدی احباب بڑے مخلص تھے مگر اتنا امیر تو کوئی نہیں تھا کہ 40 آدمیوں کو دو تین وقت روٹی مہیا کر سکتا۔ہر کوئی اس مصیبت کے وقت میں بمشکل اپنا اپنا بوجھ اٹھاتا تھا، چنانچہ ہماری ایک میٹنگ ہوئی۔کسی نے کہا کہ ہم تو سب پر دیسی ہیں لہذ امرکز کو درخواست کی جائے کہ اس مسئلہ کوحل کرے۔لیکن حوالدار نور محمد بڑامد بر آدمی تھا۔اس نے مشورہ دیا کہ ہم گاؤں والوں پر بوجھ بننا نہیں چاہتے اور مرکز پر بھی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔ہم اپنا بندوبست خود کریں گے۔مسلمانوں نے جتنے دیہات خالی کئے ہیں ابھی تک وہاں گندم کے بلکہ ہر چیز کے ذخیرے موجود ہیں۔ہم کو اور چیزوں سے غرض نہیں۔ہم صرف گندم وہاں سے لائیں گے اور مشین سے پسوا کر خود روٹی پکا کر کھا ئیں گے۔آٹا ہی بنیادی چیز ہے، باقی چیزوں کا گزارہ ہو سکتا ہے۔چنانچہ انہوں نے میری اور میرے ساہیوال کے دونوں ساتھیوں کی ڈیوٹی لگائی کہ ہم کل صبح ایک نزد یکی گاؤں ”مراء میں جائیں اور گندم لائیں۔حوالدار صاحب نے ہم کو چند جوان اور چھ سات گدھے بھی ساتھ دئے اور ہم ممراء کو روانہ ہو گئے۔گاؤں میں داخل ہو کر میں نے کمہار نوجوان کو کہا کہ جس جس گھر میں گندم ہے، وہاں سے جلدی جلدی بوریوں میں گندم بھر لو اور جب تمہارا لوڈ پورا ہو جائے تو مجھے بتا دینا۔میں ، صلاح الدین اور محمدعیسی اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر گاؤں کی نگرانی کرنے لگے۔دراصل کمہاروں کے ساتھ ہماری لاعلمی میں اور بھی بہت سے لوگ آگئے تھے جو اس گاؤں کے رہنے والے تھے، تا کہ اپنے گھروں سے جو سامان رہ گیا ہے، وہ بھی لے آئیں۔میں اور صلاح الدین ایک مکان کی چھت پر چڑھ گئے