تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 143 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 143

تاریخ احمدیت بھارت 127 جلد اوّل یہ ارشاد ہے۔وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللهِ آمَوَاتٌ بَلْ أَحْيَاءُ کہ جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو مردہ مت کہو وہ زندہ ہیں۔اور دوسروں کے لئے ایسی زندگی حاصل کرنے کے لئے اس زمانہ میں مثال قائم کر گئے ہیں۔پس ہم ان کے درجات کی مزید بلندی کے لئے دعا کرتے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے امید رکھتے ہیں کہ وہ ہمارے ان شہیدوں کو قصر احمدیت میں بلند مقام پر جگمگاتے ہوئے ستارے بنائے گا اور دوسرے نوجوان ان سے روشنی حاصل کریں گے۔ہمارے ان مقامی اور بیرونی مجاہد نو جوانوں نے اپنے مقامات مقدسہ اور قادیان میں بسنے والے لوگوں کی حفاظت کے سلسلہ میں کئی ماہ مسلسل جو خدمات سرانجام دیں ان کا ذکر کوئی ایسا بھائی کرے جوان کی تفصیلات سے واقف اور ان کا عینی شاہد ہو تو زیادہ موزوں ہوگا۔مجھے ان کی سرگرمیوں اور مجاہدانہ جدو جہد کا جو ایک آدھ نظارہ اتفاقاً دیکھنے کا موقعہ ملا میں اسی کا ذکر کر سکتا ہوں۔ہمارے محلہ دار الرحمت میں۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) سے مقابلہ کا ایک اور نہایت شاندار کارنامہ بھی عمل میں آیا۔اس وقت جبکہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) محلہ میں داخل ہو چکے تھے۔ملٹری اور پولیس ان کی حمایت میں گولیاں چلا رہی تھی۔ایک اور مکان میں کچھ عورتیں اور بچے محصور ہو چکے تھے اور مسلح۔۔۔۔۔مفسدہ پرداز ) غنڈوں نے اس مکان کے ارد گرد منڈلا نا شروع کر دیا تھا حتی کہ اس مکان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو ہمارے نوجوانوں نے مقابلہ کرنا ضروری سمجھا اور وہ ہر قسم کے خطرات کا پورا پورا احساس رکھتے ہوئے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ پولیس اور ملٹری نہ صرف۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) ڈاکوؤں اور لٹیروں کی اپنے اسلحہ سے حفاظت کر رہی ہے بلکہ ان کی حمایت میں بیگناہ اور نہتے احمدیوں کو بغیر کسی وجہ کے قتل بھی کر رہی ہے، سر پر کفن باندھ کر خواتین کی حفاظت کے لئے اپنے فرض کی ادائیگی میں مصروف ہو گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آن کی آن میں نہ صرف محلہ کا وہ حصہ درندے۔۔۔۔۔(مفسده پردازوں) سے خالی ہو گیا جہاں عورتیں اور بچے رو کے پڑے تھے۔بلکہ ملٹری اور پولیس کے سورمے بھی بھاگ گئے اور دور دور تک ان کا نام ونشان نظر نہ آیا۔اس موقعہ کو غنیمت سمجھ کر اور یہ سمجھ کر کہ ملٹری اب مزید کمک حاصل کر کے لوٹے گی عورتوں اور بچوں کو بخیریت وہاں سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچادیا گیا اس مقابلہ میں بھی کئی۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جان سے گئے۔مگر ہمارے مجاہدین خدا تعالیٰ کے فضل