تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱)

by Other Authors

Page 144 of 420

تاریخ احمدیت بھارت (جلد ۱) — Page 144

جلداول 128 تاریخ احمدیت بھارت سے بخیریت نکل آئے۔یہ ہیں اس سفا کا نہ حملہ کے کچھ حالات جو مسلح۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے ایک بہت بڑے ہجوم نے پولیس اور ملٹری کی معیت میں محلہ دار الرحمت پر کیا اور جو پولیس کی عائد کردہ شدید پابندیوں کی وجہ سے میں محض اتفاقیہ طور پر ایک نہایت محدود حلقہ میں دیکھ سکا کیونکہ اس بات کا کوئی امکان ہی نہ تھا کہ چل پھر کر سارے حالات معلوم کئے جا سکتے۔ان بیان کردہ حالات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قادیان کی بے بس اور نہتی آبادی کو اس کے گھروں سے نکالنے اور اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلے جانے کے لئے ملٹری اور پولیس نے۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کو امداد دے کر کیسا سفاکانہ حملہ کرایا۔اور کیسے کیسے شرمناک مظالم کا نشانہ بنایا۔(9)۔حیرت انگیز غلط بیانی مگر ہندوستان ریڈیو نے اپنے ایک بڑے افسر کے حوالہ سے اعلان کیا کہ قادیان پر کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔بلکہ لوگ خود بخود گھر چھوڑ کر گھروں سے نکل گئے۔اور لکھا گیا کہ قادیان کے ارد گرد چونکہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کے گاؤں آباد ہیں اس لئے احمدی قدرتاً خوفزدہ ہو کر اپنے گھر چھوڑ گئے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ احمدی نہ کبھی ارد گرد کے۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) سے خوفزدہ ہوئے اور نہ ہو سکتے تھے اور اس کا نا قابل تردید ثبوت یہ ہے کہ وہ۔۔۔۔۔(مفسدہ پرداز ) جنہوں نے علاقہ میں ایک عرصہ سے لوٹ مار اور قتل و غارت کا بازار گرم کر رکھا تھا۔اور جب سے گورداسپور کو ہندوستان کے حوالے کر دیا گیا اس وقت سے تو۔۔۔۔۔(مفسدہ پردازوں) کی سفاکیاں اور ستم آرائیاں حد سے بڑھ چکی تھیں لیکن انہیں قادیان کی احمدی آبادی پر حملہ کرنے کی کبھی جرات نہ ہوئی حتی کہ اردگرد کے مسلمانوں کے تمام دیہات ویران کر دینے کے باوجود بھی اس وقت تک جرات نہ ہوئی جب تک پولیس اور ملٹری کھلم کھلا ان کی حمایت میں کھڑی نہ ہو گئی اور 3 اکتوبر تک اس کے لئے اس نے پوری تیاری نہ کر لی۔ملٹری اور پولیس بہت بڑی تعداد میں قادیان میں جمع کر لی گئیں۔لائسینسوں سے بندوقیں لے لی گئیں اور متواتر کئی روز تشدد کا سلسلہ جاری کر کے خوف و ہراس پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔جب یہ سب کچھ کر لیا گیا