تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 55 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 55

تشند ، تعوذ اور فاتو شریف کے بعد حضور پرنور نے آیت فِيهِ ابْتَ بَيْنَتُ مَقَامُ إِبْرَاهِيمَهُ وَمَنْ دَخَلَه كَانَ آمِنًا وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً رسورة آل عمران : ۱۹۰ تلاوت فرمائی پھر فرمایا : میں اپنے خطبات میں اُن نہیں مقاصد کے متعلق بیان کر رہا ہوں، جن کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی بنیا دوں کو حضر ابراہیم علیہ السلام کے ڈرایدم نکلوایا تھا۔اور یہ بتارہا ہوں کہ کس طرح نبی اکرم صلی علیہ وسلم کے ایران عراض کو پورا کیا گیا۔تین مقاصد کے متعلق میں اپنے پچھلے خطبات میں دوستوں کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر چکا ہوں۔" پوستی عرض تعمیر کعبہ سے یہ تھی یا یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالی کا چوتھا نہ یہ تھا کہ فیه این بینت میں نے بتایا تھا کہ اس فقرہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے یہ وعدہ فرمایا تھا کہ خدا کا یہ گھر ایسی آیات بنیات اور ایسے نشانات اور تائیدات سماوی کا منبع بنے گا جو ہمیشہ کے لیے زندہ رہیں گی یعنی اس تعمیر سے ایسی امت مسلمہ کا قیام مد نظر تھا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے نشان قیامت تک دنیا پر ظا ہر ہوتے رہیں۔قرآن کریم نے یہ دعوی کیا ہے کہ صرف اسی کی اتباع کے نتیجہ میں قیامت تک کے لیے یہ دروازہ کھولا گیا ہے اور یہ کہ ہر قوم اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو اس کی برکتوں سے حصہ لیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ اپنے نشانوں کو ظاہر کرتا رہے گا۔آیات بینات پہلے انبیاء کو بھی دیئے گئے تھے لیکن وہ ایسی آیات بنیات تھیں جن کا تعلق صرف ان کی قوم اور ان کے زمانہ سے تھا۔تمام بنی نوع انسان سے ان کا تعلق نہ تھا اور ہر زمانہ سے ان کا واسطہ نہ تھا لیکن ان