تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 56

آیات میں تو مضمون ہی یہ بیان ہوا ہے کرتی وہ مقاصدمیں جن کا تعلق تمام بنی نوع انسان کے ساتھ ہے۔ہر قوم اور مہران کے ساتھ ہے۔اسی لیے اس مضمون کی ابتدا ہی إِن أَول بَيتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ مِیں لِلنَّاسِ کے ساتھ کی گئی ہے۔تو اگر چہ آیات بیات پہلی امتوں کو بھی دئے گئے لیکن ایسی آیات بنیات جن کا تعلق ہر قوم اور ہر زمانہ سے تھا وہ صرف اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دئے گئے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے بَل هُوَ ايت بينت في صُدُورِ الذين أوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِاتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ ، رسوره عنکبوت آیت ۵۰) اس آیه کریمی ای بی مضمون بیان ہوا ہے کہ محمدرسول اله صل للہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جنہیں کامل علم اور کامل معرفت عطا ہوتی رہے گی اور اس کامل معرفت کے تنظیم میں اُن کے دلوں میں اپنے رب کے لیے کامل خوف بھی پایا جائے گا۔اور اس کے نتیجے میں ان کے دلوں میں اپنے رب کے لیے کامل محبت بھی پیدا کی جائے گی اور وہ اپنے رب کی قدر کرنے والے ہوں گے تو ایسے لوگ چونک پیدا ہوتے ہیں گے، اس لیے وہ آیات بینات جن کا قرآن کی کے ساتھ پر اگر تعلق ہے کہ کہا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم ہے آیات بنیات سے۔وہ اُن کے سینوں سے نکلتے رہیں گے اور قرآن عظیم کی اس روشنی سے دنیا ہمیشہ منور ہوتی رہے گی لیکن کچھ لوگ است میسر میں ایسے بھی پیدا ہوں گے جو ظالم ہوں گے۔اور قرآن کریم کے فون کے ان دروازوں کو اپنے پر بند کرنے والے ہونگے۔ایسے لوگوں کے ذریعہ سے بے شک اللہ تعالیٰ کی آیات بینات ظاہر نہیں ہونگی لیکن أوتوا العلم یعنی وہ لوگ تبخیر کامل علم عطا کیا جائے گا وہ ہمیشہ امت مسلہ میں پیدا ہوتے رہیں گے اور آیات بینات کا دروازہ قیامت تک امت مسلم پر کھلا رہے گا۔یہ صرف ایک دعوی ہی نہیں بلکہ تاریخ اسلام شاہ ہے اس بات پر کہ اللہ تعالی نے اسلام کی سچائی اورمحمد والہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لیے زمین اور آسمان اور ہر زمانہ کو نشانوں سے بھر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں :- دوسری علامت بیچتے مذہب کی یہ ہے کہ مردہ مذہب نہ ہو بلکہ جن برکتوں او عظمتوں ی ابتدامیں اس میں تخم ریز کی گئی تھی وہ تمام کریں اور میں نوع انسان کی