تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 18
آٹھویں عرض یا آٹھواں مقصد بیت اللہ کی عمر کا یہ بتایا کہ یہ مشابہت ہے۔اس لفظ میں یہ اشارہ پایا جاتا ہے کہ دنیا ی اقوام فرقہ فرد ی گئی ہیں اورجس وقت یہ فرد بندی اپنی امت کو پہنچ جائے گی اس وقت ایک ایسا سوں مبعوث کیا جائے گا جو بیت اللہ کی اس غرض کو پوراکرنے والا ہو گا اور ان متفرق اقوام کو ایک رات پہلا ہی کرے گا۔وہ سب کو علی دین کا یہاں لے آئے گا پس بیاں بتایا کہ با وجود اس کے کہ تفرقہ ایک وقت پر اپنی انتہاکر پہنچ جائے گا اللہ تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ اس وقت ایک ایسے رسول کو مبعوث فرمائے ہو تمام اقوام کو اُمَّةً واحد لا بنا دے۔نوان مقصد یہاں یہ بیان کیا کہ آشنا یعنی یہ گھر جو ہے یہ آمنا لنا ہی ہے۔یہاں اس کے معنی ہیں کہ ہم نے اپنے اس گھر کو ایسا بنانا چاہا ہے کہ اس کے ذریع اور صرف اس کے ذریع دنیا کو ان نصیب ہوگا۔کیونکہ صرف یہ ایک گھر ہو گا جسے بیت اللہ کہا جاسکتا ہے اس کو چھوڑ کر دوران تعلیموں کو نظرانداز کر کے جن کا تعلق اس گھر سے ہے دنیا کی کوئی تنظیم امن عالم کے لیے کوشش کر کے دیکھ لے وہ کبھی اس میں کامیاب نہیں ہو گی تحقیقی امن دنیا کو صرف اس وقت اور صرف اسی تعلیم پر عمل کرنے کے فیتو میں لا سکتا ہے جو تعلیم رونی دنیا کے سامنے پیش کرے گا جو خانہ کعبہ سے کھڑا کیا جائے گا۔اخن کے ایک دوسرے معنے کے لحاظ سے آمنا لن اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ دنیا روحانی طور پر اطمینان قلب صرف کی منتظمہ اور صرف اس آخری شریعت کے ساتھ پختہ تعلق پیدا کرنے کے تیور یں حاصل کر سکے گی جو آخری شریعت مگر میں ظاہر ہوگی اور تمام اقوام عالم کو پکار رہی ہوگی اپنے رب کی طرف۔اور چونکہ اطمینان قلب مہرانسان کو اس وقت حاصل ہوتا ہے جب اس کے فطری تقاضوں کو د تعلیم پوراکرنے والی ہو اوراللہ تعالیٰ نے انسان کے اندرجتنی قوتیں اور استعدادیں پیدا کی ہیں ان سب کی راہ نمائی اور وانا کرنے کے قابل ہو یس یا ای ارایا کہ کارگر ہوا ایک ایسی ای او و یو پر دنیا کا امینان قلب پہنچانے والی ہوگی ہر دو معنی یہاں چسپاں ہوتے ہیں۔ایک تویہ کہ دنیا کو اگر ان نصیب ہو سکتا ہے تو وہ مکہ کی وساطت سے۔دوسرے یہ کہ دنیا کی ارواح اگر اطمینان قلب حاصل کر سکتی ہیں دنیا کی عقلی گرفتی پاسکی ہیں صرف اس تعلیم کے تیو می جنگ میں نازل ہوگی۔و ستویں غرض اور دسواں مقصد ان آیات میں خانہ کعبہ اللہ تعالیٰ نے یہ بیان کیا ہے کہ اتَّخَذُوا مِنْ تَمَقَافِ إبْرَاهِيمَ مُصَلَّی اس سے پہلی ایک آیت میں مَقَامُد ابراھیم کا ذکر تھا۔اس سے مراد یہ تھی کہ یہ مقام ایسا گھر ہے