تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 19
19 جہاں بنیاد ڈالی گئی ہے اس حقیقی عبادت کی جو محبت اور ایثار و عشق النی کے شہر سے بند ملتی ہے اور اتخذوا من مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّی میں اُس عبادت کا ذکر ہے جو نذ تل اور انکسار کے منبع سے پھوٹتی ہے۔مرض اللہ تعالی نے یہاں فرمایا کہ بیت اللہ کی تعمیر کی ایک فرض یہ ہے کہ ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو نہ مل اور انکسار کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرنے والی ہو۔اور جو نذ تل اور انکسار کی عبادت کے لیے حضرت ابراہیم علیہ اسلام۔۔۔۔کے مقام کے ظل ساری دنیا میں قائم کرے۔اور اشاعت اسلام کے مراکز کو قائم کرنے والی ہو۔گیارویں غرض تعمیر بیت اللہ کی یہ بیان کی گئی ہے کہ عبقری اور اس میں ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالی کا منشا یہ ہے کہ خانہ کعبہ کو ظاہری صفائی اور باطنی طہارت کا سبق سیکھنے کے لیے ساری دنیا کے لیے بطور ایک جامد اور یونیورسٹی اور ایک مرکز کے بنایا جائے۔بارھویں غرض تیری کمی کی یہ بتائی گئی ہے کہ با گل افشین یعنی اقوام عالم کے نمایندے بار بار یہاں جمع ہوا کریں گئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کواللہ تعالیٰ نے قریباً اڑھائی ہزار سا پہلے یہ بتایا تھاکہ تمام اقوام عالم کے نمایندے باربا یہاں آئیں گے طواف کرنے کے لیے بھی اور دوسری ان اعراض کے پورا کرنے کے لیے بھی بن کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے۔تیرھواں مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ دالحکیفین۔خانہ کعبہ اس غرض سے از میر تو تعمیر کروایا جارہا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو اپنی زندگیاں خدا تعالی کی راہ میں وقف کرنے والے ہوں اور اس طرح بیت الله کے مقاصد کو گورا کرنے والے ہوں۔چودھواں مقصد یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالے چاہتا ہے کہ والش گیر السجود ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو توحید باری پر قائم ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اپنی زندگیوں کوگزارنے والی ہو۔پندرھواں مقصد یہ بیان ہوا ہے کہ بد امنا۔امن کا لفظ ان آیات میں تین مختلف مقاصد کے بیان کے لیے اللہ تعالی نے استعمال کیا ہے۔یہاں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ ہم اس گھر کو دنیا کے ظالمانہ حملوں سے اپنی اپنا ویر یکھیں گے اور کوئی ایسا محمد جو خانہ کعبہ کومٹانے کے لیے کیا جائے گا وہ کامیاب نہیں ہوگا بلک مل اور تباہ و برباد کرکے رکھ دیا