تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 17
ے اس عبادت کا مرکزی نقطہ ہوگا اورایک قوم و نمایندہ ہوگی تمام قوام اور نام نہ ہو یہ زمانہ کی پیدا کی جائے گی ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اللہ تعالے کے گناہ سوز مشق ے سرشار ہوگی اور اعلی کے قرب کی امی اس پیش کی ہیں یا به پانچ مقاصد تھے جن کے تحتی میں نے گذشتہ جمعہیں تفصیل سے بیان کیا تھا کیونکہ مجھے ان مقاصدمیں سے ہر اک کی طرف متعلق پھر واپس آتا ہے یہ ثابت کرنے کے لیے کان میں سے ہر ایک کا تعل نہیں کی الی الا علی ایم کی بہشت سے ہے اور یہ کہ وہ کسی ای او ہیں شکل میں حاصل ہوا۔اس لیے آج میرا ارادہ یہ ہے کہ میں بڑے ہی اختصار کے ساتھ ان مقاصد کو بیان کروں اور کوشش کروں تزيين المقاصد میں سے جو باقی رہ گئے ہیں ان سب کو آج کے خطہ میں بیان کردوں، آگے جو خدا کو منظور ہو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَن دَخَلَه كان امنا بیت اللہ کی تعمیر کی چھٹی غرض یہ ہے کہ جو بھی اس کے اندر داخل ہوگا میں برو شخص جو ان عبادات کو بجالائے گا جن کا تعلق بہیت اللہ سے ہے دنیا اور آخرت کے جہنم سے وہ خدا کی پنا ہیں جان گیا اور اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔پس چھٹی غرض بیت اللہ کی عمر کی یہ ہے اللہ کا ایک ایسا گھر بنایا جائے میں کے ساتھ بعض عبادات تعلق رکھتی ہوں اور جو شخص بھی خلوص نیت کے ساتھ اور کامل اور مکمل طور پر ان عبادات کو سجا لائے گا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ اس کے تمام پچھلے گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا اور امام ہم سے وہ محفوظ ہو جائے گا۔ساتویں غرض بیت اللہ کی عمر کی اللہ تعالی نے ہاں یہ بتائی ہے کہ ولله على الناس حج البيت حضرت ابراہیم علی السلام کی ادوار و یا اہل عرب پر بھی یہ فرض نہیں کہ وہ بیت اللہ کاحج کریں بلکہ بیت اللہ کی تعمیر کا اصل مقصد تویہ ہے یا تو ہر عنایت اللہ کر حج کے لیے اس مقام پر جمع ہوں میں سمجھتا ہوں کہ یہ تمام اغراض و مقاصد حضرت ابراہیم علیہ اسلام کو بیت اللہ کی تعمیر کے پر وقت ہی بتا دیئے گئے تھے جیسا کہ بہت سے قوی قرائن اس کے متعلق قرآن کریم سے ملتے ہیں، غرض اللہ تعالیٰ نے حضرت ابرا ہیم السلام کی کیاکہ یہ خداتعالی کا ایک ایسا گھر ہے کہ تمام قوام عالم جومجھ پر ایمان لائیں گی اور میرے رسول پر بھی ایمان لائیں گی پر خاتم انبیین وعلی اللہ علیہ علم کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر میری اطعت کا جو اپنی گردنوں پر رکھیں گی ان کے لیے حج بیت اللہ فرش قرار دیا جائے گا اور اس طرح اس جگہ کو مرجع خلائق اور مرجع عالم بنا دیا جائے گا۔