تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 29 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 29

ہو نے لگے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب نے محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے اور ہمارے رب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیے تھے۔اب میں یہ بتاؤں گا کہ نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ یہ وعدہ روضح لنا اس کام کس طرح اور کس شکل میں پورا ہوا۔ظاہر ہے کہ چونکہ وعدہ تمام اقوام کے لیے تھا اور وعدہ یہ تھا کہ تمام بنی نوع انسان مگر سے برکت حاصل کریں گے پر عقلا بر مسکن ہیں کہ شریعیت کا ملہ کے نزول کے بغیر ایسا ہواس لیے قرآن کریم کی کامل شریعیت کا نزول اس وعدہ کے گورا ہونے سے قبل ضروری تھا۔قرآن کریم نے دعوی کیا ہے کہ ذلک الکتاب و البقر و ۱۳۱ که یه قرآن ایک کامل اور اکمل شرار ہے ذلِكَ : اور اس دھونی کے دلائل قرآن کریم نے یہ دیئے کہ لاریب قبیلہ، نیب کے چار معنی جو یہاں یہاں ہوتے ہیں ان کی رو سے یہاں ہمارے سامنے چار دلائل بیان کیے گئے ہیں اس بات کے ثابت کرنے کے لیے کہ واقہ میں سے قرآن ہے کتاب ہر لحاظ سے مکمل کامل اور اکمل اور انتم ہے۔ترتیب کے ایک معنے کی رُو سے قرآن کریم کی تعریف یہ پھلتی ہے کہ انسان کی روحانی اور سبحانی اور معاشرتی اور اخلاقی اور اقتصادی اور سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف میں ایک کامل کتاب ہے اور بھی ایک کامل کتاب ہے ہو فطرت انسانی کے سب حقیقی تقاضوں کو پورا کرتی ہے۔کیونکہ یہ اپنے ذاتی کمالات اور فضائل و بے نظیر تعلیمات کے ساتھ اپنی ضرورت اور صداقت کو ثابت کرتی ہے۔اگر میں اس دلیل کو پھر ایک عمومی قرار دے کر اس کے دلائل بیان کرنے لگوں تو آپ ایک لیس پر بھی بڑا وقت خرچ ہو جاتا ہے۔قرآن کریم کو ایک حد تک سمجنے والے بھی یہ جانتے ہیںکہ قرآن کریم کے دلائل اور فضا ال نظر تعلیمات اس قسم کی ہیں کہ جو تمام پہلی کتاب پر اس کو افضل ثابت کرتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جب بنی اسرائیل کی الہامی کتب کے متعلق یہ سوال کیا گیا کہ ان کے مہوتے ہوئے قرآن کریم کی کیا ضرورت تھی ؟ تو آپ نے یہ جواب دیا کہ سارے قرآن کریم کا نام نہ لو، وہ تو بہت وسیع کتاب ہے بڑے علوم اس کے اندر پائے جاتے ہیں۔اس کے شروع میں سورہ فاتحہ ہے اور سورۂ فاتحر میں جو معارف اور حقانی دلائل بیان ہوئے ہیں ان معارف اور دلائل کے مقابلہ پر اپنی تمام روحانی کتب سے اگر تم وہ دلائل اور معارف نانی کے