تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 28
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايَتِكَ وَ يعلمهم الكتب وَالحَكمَةَ وَيُزَكّيهِمْ أَنَّكَ أنتَ الْعَزِيدا بهِمْ أَنَّكَ أَنتَ العوزير الحكيم ) (بقره ع ها) پھر فرمایا : میں نے گذشتہ دو خطبات میں بتایا تھا کہ ان آیات میں جو میں نے ان خطبات سے پہلے بھی تلاوت کی تھیں اور آج بھی تلاوت کی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ایسے میں مقاصد کا ذکر کیا ہے جن کا تعلق بیت اللہ سے ہے اور بن مقاصد کا محصول بیشت نبوی صلی اللہ علیہم تم سے ہے۔اور اگر چہ یہ سب وعدے حضرت ابا امام علی السلام نبی اکرم صلی اللهعلیه وسلم من است سے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے دیے گئے تھے، لیکن یہ بائیں یہ وعدے اور پیش گوئیاں حقیقی طور پر اس وقت پوری ہوئیں اور یہ سب مقاصد اس وقت حاصل ہوئے جس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم دنیا کی طرف مبعوث ہوئے اور قرآن کریم کی ناری آسمان سے نازل ہوئی۔بیت اللہ کے قیام کی پہلی غرض اللہ تعالی نے ان آیات میں جیساکہ میں نے اپنےاپنے ایک خطہ میں بیان کیا تھا یہ بتائی ہے کہ وضع الناس۔یہ اللہ کا گھر اس لیے از سر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھ سے تعمیر کروایا جارہا ہے ا تمام قوایم عالم کے دینی اور دنیوی فوائد اس بیت اللہ سے وابستہ کر دئیے جائیں اورظاہر ہےکہ یہ اڑھائی ہزار سال زمانہ جوحضرت ابراہیم علیہ السلام اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے در میان گزرا ، اس زمانہ میں یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ بیت اللہ سے تمام اقوام عالم دینی اور دنیوی فوائد حاصل کر رہی ہیں۔بہت سی قومیں اُس وقت ایسی بھی تھیں جو بیت اللہ یا کہ کے جغرافیہ سے بھی واقف نہیں تھیں اکثر اقوام عالم وہ تھی کہ جن کے دلوں میں بیت اللہ کی کی ہمت نہیں تھی۔وہ اس کی طرف کھنچے ہوئے نہیں آتے تھے۔ان کی نگاہ میں اس کی کوئی عزت اور احترام نہیں تھا اور انھیں لیتیں ہیں تاکہ بیت اللہ سے بعض ایسی برکات اور فرض بھی البتہ میں کہاگر یہ ان کو جائیں اور پہچانیں تو ہم ان برکات اور فرض سے حصہ لے سکتے ہیں، لیکن جب آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کا طور پر ان میں گر ھے دنیا بھول چکی تھی دنیا نے اس کو پہچان لیا اور اس کی برکات کو جان لیا اور دنیا کے دل میں، اکناف عالم میں بسنے والی اقوام کے سینہ میں اس کی محبت پیدا ہوگئی اور تمام وعدے پورے '