تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 90

علیہ وسلم کے ذریعہ پوری ہوئی ہے۔قرآن کریم نے اس مقصد کے پیش نظر حکم دیا : وَمَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ لِدَ يتبقى لَةً طَ فَلَوْلا نَفَرَ مِن كُلِّ فِرْقَةٍ مِنْهُمْ طَائِفَةٌ لِيَتَفَقَهُوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَهُمْ إذَا رَجَعُوا إِلَيْهِمْ لَعَلَّهُمْ يَحْذَرُونَ (سوره توبه آیت ۱۳۲) یعنی مومنوں کے لیے یہ تو مکن نہیں کہ وہ سارے کے سارے مرکز اسلام میں اکٹھے ہو جائیں۔کیونکہ اسلام کی میناب اقوام عالم میں اقوام عالم مرکز اسلام میں کسی وقت بھی انھی نہیں ہو سکتیں۔لیکن مرکز کے ساتھ اقوام عالم کا نچہ تعلق تام رہنا بھی ضروری ہے ، اس کے لیے اللہ فرماتا ہے کہ ہم تمھیں تعلیم دیتے ہیں کہ چونکہ سب کا اکٹھا ہونا یہاں ممکن نہیں اس پیسے کیوں نہ ہوا کہ ان کی جماعت میں سے ایک گروہ نکل پڑتا تا کہ وہ دین کو پوری طرح سیکھتے اور واپس ٹوٹ کر اپنی قوم کو بے دینی سے بچاتے۔اور اس طرح گمراہ ہونے سے اُن کو بچالیتے۔انذار کے ذریعہ اور تخویف کے ذریعہ۔تو یہاں قرآن کریم نے امت مسلہ کو جو اقوام عالمہ مشتمل اور اکنات عالمہ میں پھیلی ہوئی ہے یہ حکم دیا ہے کہ قوم اور ہر ملک کی ایک نمایند و جماعت مرکز میں آتی رہنی چاہئیے تاکہ وہ دین سیکھے اور ضروریات وقت سے آگاہ ہو اور راس بات کا علم حاصل کرے کہ اسلام کے لیے موجودہ زمانہ میں کس قسم کی قربانیوں کی ضرورت ہے اور اُن کو معلوم ہو کہ ان کا ابا ہم وقت کن کاموں کی طرف اور کی منصوبوں کی طرف انھیں جاتا ہے اور تا کہ وہ ان کی حکمتوں کو چھیں تا جب وہ واپس جائیں تو اپنے اپنے علاقہ میں اپنے دوسرے بھائیوں کو یہ بتائیں کہ اس وقت اسلام پر شلا فلان عالی طرف سے حملہ ہورہا ہے اس کے جواب کے لیے تم تیار ہو جاؤ۔اسلام کے خلاف دجل کے یہ طریق استعمال کیے جارہے ہیں اور اس وجہ سے اسلام کی حفاظت اور اسلام کی بقا کے لیے اور اسلام کی ترقی اوراستحکام کے لیے جماعت کے سامنے رینصوبہ رکھا جارہا ہے، ان قربانیوں اور اشتہار کے نمونوں کو پیش کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو جاؤ اور عملی طور پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرو چنانچہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں قبیلوں کے نمائندے مدینہ میں آپ کے پاس جمع ہوتے رہتے تھے۔علم دین سیکھتے