تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 91 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 91

اور علم قرآن سکھتے۔قرآن کریم کے بعض حصوں کو یاد کرتے۔تفقہ فی الست این حاصل کرتے اور پھروہ اپنی قوم میں واپس جاتے اور اس طرح احیاء دین اسلام کے سامان پیدا کرتے یہ جو لوگ وہاں مدینہ میں آتے وہ بھی اپنے وقت کی قربانی دیتے۔علیم دین سیکھنے کے لیے بھی اور علم دین سکھانے کے لیے بھی اور ان سے علم دین سکھنے والے کبھی اپنے وقت خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ، اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مدینہ میں آنے کا اُن کے نفسوں کو تو فائدہ پہنچ جاتا اُن سے دوسروں کو کوئی فائدہ نہ پہنچتا۔لیکن اس سکیم اور اس منصوبہ کی اصل غرض تو تھی ہی یہ کہ لوگ باہر سے مرکز میں آئیں، دین سیکھیں۔ضروریات اسلام کا علم حاصل کریں۔پھر واپس جائیں اور یہ باتیں اپنے دوسرے بھائیوں کو تبائیں۔پس طواف کا مقصد حاصل نہیں ہوتا ، جب تک یہ طائف و عاملین اور یہ لوگ وقت کی قربانی دینے والے ہیں اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام نے پاکیزگی اور طہارت کی تعلیم دی ہے اور خدا تعالے نے ایسی امت پیدا کر دی ہے جو اپنے وقتوں کو قربان کر کے خدا اور اس کے رسول کے لیے مرکز میں جمع ہوتے ہیں اور واپس جاکر خدا اور رسول کی بنا کے لیے اپنے بھائیوں کو علم قرآن سکھا تے ، علیم دین اُن کو تنہاتے جو تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں اسلام کی حفاظت یا اسلام کی اشاعت کے لیے وہ باتیں اُن کے سامنے رکھتے ، اور اُن کے دل میں خدا کی راہ میں قربانیاں پیش کرنے کے لیے بشاشت پیدا کرتے ہیں۔اس حکم کو اس وقت کی قوموں اور قبائل نے خوب اچھی طر سمجھا تھا، چنانچہ ابن عباس سے روایت ہے : كان ينطلق من كل حي من العَرَبِ عَصَابَةٌ فيأتون الليبي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَسْأَلُونَهُ عَمَّا يُرِيدُونَ مِن أمـ ك دِينِهِمْ وَيَتَفَقَهُونَ فِي دِينِهِمْ - در تفسیر ابن کثیر جلده من سورہ تو یہ آیت وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُونَ) ابن عباس کی روایت سے کہ عرب کے ہر قبیلہ میں سے ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر بٹوا کرتی تھی اور جن باتوں کا انھیں پہلے علم نہ ہونا ان کے متعلق وہ پوچھتے۔بصیرت حاصل کرتے مسائل کی حکمتیں