تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 43 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 43

پیلی تمام امتوں کی پریم کی برکات کی جامع ہے اسرار رائے اور ان بشارتوں اور شنگوئیوں کے مطابق نازل ہوئی ہے جو اسکتا کے متعلق پہلی کتب میں پائی جاتی ہیں۔نیز ان تمام شرائع سابقہ کی بنیادی صداقتوں اور ہدایتوں پر مہر تصدیق ثبت کرنے والی ہے اس کے اندران کو جمع کر دیا گیا ہے) اسی طرح ابراہیمی قربانیوں اور دعاؤں کا یہ ثمرہ ہے ، اس لیے تم اہل مکہ اور اہل عرب ک خبر دار کرد کر رہی اکمل شریعیت کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ پورا ہوا اور موعود و شرایت تم پرنازل ہوگئی۔اگر تم اس سے منہ پھیر و گے زمیں کہ براہیم علیہ السلام کے ذریعہ تھیں پہلے سے خبر دار کیاگیا ہے اللہ تعالیٰ کے غضب کے تم مور دینو گے اور عذاب النار کی طرف گھسیٹ کر تمہیں لے جایا جائے گا۔اس آیت میں بڑی وضاحت سے بیضرور پایا جاتا ہے کہ ان کا نام الا یہ ملک کی ذات و ابراہیم کی + پیشگوئیوں کے ساتھ ہے۔لِتُنذِرَ أَمر القُرَى وَمَنْ سُوکھا میں مضمون بڑی وضاحت سے بیان ہوا ہے۔تو ہر دو معنے کے لحاظ سے یہ خانہ خدا مبارگی اس وقت بنا جس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔دنیا کے ال میں گرمی بہت پیدا کی گئی اور نیا کی ضرورتوں کو پر کرنے کے لیے نگرمیں شریعت اسلامی کا نزول ہوا۔تیسری عرض تعمیر کعبہ کی ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی کہ ھدی للعلمین تمام جہانوں کے لیے اسے ہدایت کا مرکز بنایا جائے گا، یعنی یہاں ایک ایسی شرعیت نازل ہو گی جس کا تعلق کسی ایک قوم یاکسی ایک زمانہ کے ساتھ نہ ہوگا بلکہ علمین کے ساتھ ہو گا۔تمام اقوام کے ساتھ ہوگا، تمام اکنان عالم کے ساتھ ہوگا تمام جہانوں کے ساتھ ہوگا اور تمام زمانوں کے ساتھ ہو گا۔اس سلسلہ میں ہلی بات یاد رکھنے کے قابل یہ ہے کہ پہلی کتب سمادی کے نزول کے وقت انسان کی کمزور استعدادیں اس لائق نتی که وه کامل و مکمل شرحیت کا متحمل ہو سکتیں۔اس لیے ان میں سے کسی کا بھی یہ دعوی نہ تھا کہ ہ تمام اقوام عالم اور ہرزمانے کےلیے ہیں۔للعلمین ہونے کا دعوئی راس معنی میں قرآن سے پہلے کسی شریعت نے نہیں کیا۔صرف قرآن کریم نے ہی یہ دعوی کیا ہے، اور صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہی دنیا کو پکا کر کہا کہمیں تم سب کی طرف خدا کا رسول ہوں ، قرآن کریم میں مبت سی آیات اس مضمون کی پائی جاتی ہیں میں نمونہ کے طور پر چند ایک بیاں بیان کروں گا اللہ تعالی فرماتا ہے ونزلنا عليك