تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 34 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 34

د و رام کیا میں نہ کی اُمت نے آج تک اللہ کا تقابل کیا اور نہ کوئی ایسی امت قیامت تک پیدا ہوسکتی ہے جو امت مسلہ کے مقابہ میں آئے پس اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا کہ گن تو خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ اسی ابراہیمی وعدہ کے مطابق تمھیں لناس پیدا کیا گیا ہے۔تمام دنیا تم سے فیوض حاصل کرے گی تم سے برکات پائے گی اور دلیل اس کی یہ ہے کہ تم خیر امت ہو ہر دو لحاظ سے۔استعداد کے لحاظ سے بھی، اور تربیت کے نتیجہیں جو رنگ اُسوہ رسول اور اخلاق حسنہ کا تم نے اپنے اوپر پڑھایا ہے اس کے لحاظ سے بھی۔اور تم ہی وہ ہو سکتے ہو جن سے ساری دنیا فائدہ اٹھا سکے۔پس تمھارا خیر امت ہو جانا تمھاری صلاحیتوں اور استعدادوں کا اپنے کمال تک پہنچ جانا اور پھر ان صلاحیتوں اور استعدادوں کی تربیت کا اپنے کمال تک پہنچ جانا یہ بتاتا ہے کرده و عدہ پورا ہو گیا کہ بیت اللہ و وضعَ لِلنَّاسِ تمام اقوام عالم کے فائدہ اور بہبود کے لیے کھڑا کیا گیا ہے۔یہ بھی یادر ہے کہ انسان تمام بنی نوع انسان کو صرف اسی صورت میں فائدہ پہنچا سکتا ہے جب وہ تمام بنی نوع انسان کو اخوت اور سادات کے مقام پرلا کھڑا کرے اور کسی امتیاز یا تفریق کو جائز نہ سمجھے چنانچہ وہ تمام باتیں جو انسانی عزت اور احترام کو قائم کرنے والی تھیں وہ امت مسلمہ کی شریعت میں قرآن کریم یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ یا احادیث میں پائی جاتی ہیں اسلام نے انسان انسان کے درمیان ہر امتیاز اور ہر تفریق کو مٹاکر رکھ دیا ہے اور اس طرح پر انسان کی عزت اور توقیر کو قائم کیا ہے۔حجة الوداع کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ سلم نے جو خطبہ دیا اس میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ الا ہوشیار ہو جاؤ کان کھول کر سنو کہ تمھارا رب ایک ہے ، وہ ایک ذات ہے جس کی ربوبیت کے میتھ ہیں مقام اقوام مختلف فاصلے طے کرتے ہوئے اس مقام پر پہنچ گئی ہیں کہ ان تمام اقوام کی روحانی اور اخلاقی استعدادیں اور صلاحیتیں ایک جیسی ہوگئی ہیں اور اب وہ آخری شریعیت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوگئی ہیں۔تمھا را پیدا کرنے والا ایک ہے۔اس نے تمھاری جسمانی اور روحانی استعدادوں کو ایک جیسا پیدا کیا ہے۔قوم قوم میں اس نے فرق نہیں کیا۔یہ صحیح ہے کہ افراد کا اپنا اپنا ایک ترقی کا دائرہ ہوتا ہے، لیکن قوم قومیں کوئی تفریق نہیں کی جا سکتی۔یہ نہیں کہ ایک قوم ذلیل یا حقیر ہے یا اس کی بناوٹ ہی ایسی ہے کہ وہ جسمانی یا روحانی یا علی یا اخلاقی یا معاشرتی یا اقتصادی ترقی نہیں کرسکتی۔پس فرمایا کہ ہوشیار ہو جاؤ۔کان کھول کر سنو کہ