تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 35 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 35

تمھارا ہونے نہیں پایا ہی نے تم سے قوی کو پی کیا جس نے تھر راویوں کو دیا میں نے اتاری اداروں کو دیا گیا چھان کی اپیست ی اور تھا کے مدارمیں نے گزارا تمھاری نشو نما کما تک پہنچایا وہ پاشا واحد ہے ایک ہے اور میری یاد کھو کہ تمھارا باپ بھی ایک ہے یعنی تم سب آدم کی اس سے ہی فرض تھارات پیداکرنے ایک سے تھا اباپ ایک ہے گرم متابوں کا ہوتا ہے تو کہے ہم نے اپنےاپنے اوپ ے رشتہ حاصل کیلئےاورہماراباپ بزرگترا برتھا اسکےورنہیں میں خودی برتر تایا گیا ہے مگر اس کا درست نہیں کیونکہ باپ ایک ہے پھر اگر مختلف خدا ہوتے مختلف تب ہوتے توکوئی قوم کرسکتی تھی کہ رب نے میں پیدا کیا ہے زیادہ طاقتوراورزیاد عام اورزیاد قادراوانیان خفت کردوان ور زیادہ رحم کرنے انتھا اسنے ہمیں زیادہ ے دیا۔دوسری کو پیداکرنے ارب علم می یاد میں تھا اس کی قات زیادہ تھی اسمیں یہ مادہ نہ تھا اسکے اپنی مخلوق کے ساتھ وہ بت نہیں تھی جو ہاے رب نے تم سے کی ایسے ان کو مرچیں ہیں اس سے اس لحاظ سے کمتر ہوگئے ہیں گردہ تھا رات ایک جب تمھارا باپ ایک تو تھیں یا پینا چائے کیری کی کوئی فیات انہیں کسی بھی کوری یکی ا الاتصال نہیں ہے۔کسی سیاہ کاری نے اسے پر کوئی فضیلت حال ہے اورنہ کس پر رنگ والے کو سیاہ فام پر کوئی فضیلت حاصل ہے، اور ایک جگہ آپ نے بھی فرمایا کہ کسی سرخ رنگ اسے کسی سعی دام ر کوئی فضا میں ہے اور کسی سنیا کون تنگوالے پرکوئی فضیلت میں ہے نیت کا مانتا ہے کی نگاہیں اوران استعدادو کی نیت ہیں جو ے اس ایک ہی یہی ہے اور وہ ہے تو یا مولانا کیا میں اگر وہ ہے ان بات یہ ہے کی داتعالی کی ان کا تو تھیں ہ پیار کی ہے یا غتصب کی ہےتو پرایک میرے پربندگی بتایا کہ یہ کیا ہے جینے دی ہے ری اقتصادیات اسلامی کی یری لینینی بابک امی کو یکتا ہے کہ جب تک غربت قائم ہے تیر تیرے مال پر کوئی حق نہیں جیسے فرمایا: کرفی آهو الهِم حَق لِلسَّائِلِ وَالْمَعْرُومِ الد رایت ۱۲ میرے نزدیک اس آیت کے معنی ہیں کہ جب تک ضروریات زندگی ہر قوم کو میں باتیں کسی ا ا ا ا پنے مال پخت باقی نہیں بنتا ہے ضروریات زندگی پری ہوجائیں پھر باقی بچا ہے وہ خداتعالی انس ہے اسے جائز راہوں پرخرچ کرنے سے سلام نہیں کیا لیکن اگر ما یھوکا ہواور تم پانچ یا سات کھا نے کھاؤ تو اسلام اس کی اجازت نہیں نیا پس کسی لحاظ سے بھی کسی قوم کو یثیت قوم کسی دوسری قوم پرکوئی فضیلت میں میں امام کے بیان کیا ایک سے ہی قومیں نے بھی سناتے ہیں ا کے ان ہی میں میں ہی ان سے ان میں ہی ان کا اپ اپنے ای یاد بھی ہیں ان پن لامتیں ہیں لیکن یہ بت غلط ہے کوئی قوم سار کی ساری علم کے بیانین داغ و در یک سری تو ساری کی سار علم کے میدان ہی نہیں Geis) ہو۔