تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 33
کی طرف سے جو شریعیت بھی جس قوم کی طرف نازل کی جاتی ہے، وہ اس قوم کی روحانی صلاحیتوں اور استعدادوں کو نظر کی کرنازل کی جاتی ہے کیونکہ العالی کی فرد کی قوم پر وہ بوجھ ہیں ڈالا جس کو اشارات نہ کر سکے۔دوسری حقیقت جو بڑی واضح ہے وہ یہ ہے کہ قرآنی شریعت پہلی تمام شریعتوں کے مقابل ہیں اکمل اور تم اور کال اور مکمل ہے۔اگر آپ پہلی شرائع کے احکام اوامر ونواہی کو قرآن کریم کے احکام کے مقابلہ پر رکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ قرآن کریم ہیں چھے سات صد سے زائد احکام راوامر ونواہی اس امت کے لیے نازل کیئے گئے ہیں ان کے مقابلہ میں حضرت موسے علیہ السلام پر معدودے چند احکام کا نزول ہوا۔پھر سینکڑوں ایسے احکام قرانی ہیں جو پہلی کسی شریعیت میں بھی تمہیں نظر نہیں آتے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلی شرائع کے احکام را وا مونواہی محدود تھے بوجہ اس کے کہ اس قوم کی استعدادی محدود نہیں میں کی طرف انھیں نازل کیا گیا تھا اور قرآن کریم کا ایک کامل اور مکمل شریعت ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بنی نوع انسان ہیں زمانہ میں جب قرآن کریم نازل ہوا کامل روحانی استعدادوں کے حامل تھے ورنہ قرآن کریم ان کی طرف نازل نہ ہوتا۔پس قرآنی تعلیمات کے کمالات خاصہ اس امت کے استعدادی کمالات پر شاہد ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم کے جو کمالات ہیں اور ان کی جو دوست ہے اور اس کی جو شان ہے اُس سے ہم اس نتیجہ پر پہنتے ہیں کہ قرآن کریم کے مخاطب اپنی استعدادوں میں پہلی تمام امتوں سے بڑھے ہوئے ہیں ورنہ وہ قرآن کریم کے حامل نہیں ہو سکتے تھے یعنی قرآن کریم کے مخاطب اپنی صلاحیتوں استعدادوں میں پہلی سب اُمتوں سے افضل اور برتر اور بزرگ ترہی۔اور پھر جب باستعدادیں اور صلاحیتیں قرآنی تعلیم کی تربیت کے نیچے آئیں تو روح القدس کی معرفت اور آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے تجری اور آپ کی متابعت کی برکت سے ایسے روحانی وجود پیدا ہوئے جو اپنی کمیت او کیفیت اور صورت اور حالت میں تمام پہلے انبیاء کے روحانی بچوں سے اکمل اوراقم ھ سے اور جب تک ایسی خیر گیت پیدانہ ہو جاتی کہ کوئی پہلی امت اس کے مقابل ہیں نہ ٹھر سکتی اوریہ سے آگے نہ نکل جاتی اور آئندہ کوئی ایسی است پیدا ہوسکتی جس سے آگے بڑھا اسے اپنی اپنے عروج او کا کینچی ہوئی ہو اس وقت اور رانا اس کا وعدہ پورا میں ہوتاتھا، کیو نک ناقص شرعیت کے نیت ہیں اور ناقص تربیت سے باہمی نہیں لکھی جاسکتی کہ وہ تمام اکناف عالم کو فائدہ پہنچانے والی ہو غرض ان غیر