تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 20
جائیں گے تا دنیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنے کہ وہ نبی جسے ہم یہاں سے مبعوث کرنا چاہتے ہیں وہ بھی خدا تعالی کی پناہ میں ہوگا اورنیا * کی کوئی طاقت اس کی ذات کو ہلاک یا اس کے مشن کو نا کام نہیں کر سکے گی اوتا دنیای بی نتیجہ نکالے کہ جو رعیت ہی معصوم کو دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لیے ہوگی اور خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوگا۔سولھویں غرض جو خانہ کعبہ سے وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ کا زرق أَهْلَهُ مِنَ الشَّهَوَاتِ۔اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتا یا کہیں بیت اللہ و از سر نو تعمیر کروا رہا ہوں اس غرض سے بھی کر تا بیت اللہ اور اس کی برکات کو دیکھ کر دنیا اس نیتی پر پہنچے کہ جولوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے پرموت وارد کرتے ہیں اور اس کے ہو کر اس کی راہ میں قربانی دینے ہیں اور دنیا سے کٹ کر صرف اسی کے ہو رہتے ہیں ان کے اعمال ضائع نہیں ہوتے بلکہ شیریں پھیل انھیں ملتا ہے اور عاجزاً اور عاشقانہ اعمال کے بہترین نتائج ان کے لیے مقدر کیے جاتے ہیں۔ستمر ھویں غرض بیت اللہ کے قیام کی یہ بتائی کہ ربنا تقبل منا یعنی بیت اللہ کی تعمیر کی ایک غرض یہ ہے کہ تا دنیا یہ جانے اور پہچانے کہ روحانی رفعتوں کا حصول دعا کے ذریعہ سے ہی ممکن ہے۔جب دعائیں انسان کا تضرع اور ابتهال انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور موت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تب فضل الہی آسمان سے نازل ہوتا ہے اور معرفت کی راہیں بندہ پر کھولی جاتی ہیں۔مرض اللہ تعالی نے یہاں بیت اللہ کے قیام کی غرض بتائی کہ یہاں ایک ایسی قوم پیدا ہوگی جودھا اپنی تمام شرائن کے ساتھ کرے گی اور دعامیں اُن پر ایک موت کی سی کیفیت وارد ہوگی اور ان کا وجود کلیت فنا ہو جائے گا اور پانی کے آستانو رب پر یہ کھلے گا اور وہ جانتے ہوں گے کہ ہم اپنے اعمال کے بنیتو میں محض اعمال کے بقیہ میں کچھ ہی نہیں کرسکتے جب تک ہم دعا کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب نہ کریں، اس لیے انتہائی قربانیاں دینے کے بعدبھی وہ اپنی قربانی کی کچھ چیز نہ کھیں گے اور ہر وقت اپنے رب سے ترساں اور لرزاں کریں گے اور انتہائی قربانیوں کے باوجود ان کی دعا ہو گی که تو کچھ ہم تیرے تصور پیش کر رہے ہیں وہ ایک حقیر سا تحفہ ہے تیری شان تو بہت بلند ہے اور ہم سجھتے ہیں ک تیرنے مصور ہمارا یہ تحفہ قبول ہونے کے لائق نہیں، لیکن تو را رحم کرنے والادت ہے بہالے اس قدر نفر کو قبول فرما اور بہاری غفلتون تو بڑا الله