تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 108 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 108

کی راہ میں دیتے ہو اس کو ان کی کیا پروا ہے۔اس کے خزانے کیا خالی ہیں کہ تمہارے مال کی اس کو پروا ہو ؟ تم اس کے احکام بجا لاتے ہو، انتہائی طور پرمجاہدہ کرتے ہو، کوشش کرتے ہو اس کی راہ میں، پھر بھی اسے تمہاری کوئی پروا نہیں تمہیں ان تمام چیزوں کا فائدہ اسی وقت پہنچ سکتا ہے جب تم دعا کے ذریعہ اس کے فضل کو جذب کرو جب ریمیت کے جلوہ کے ساتھ رحمانیت کا جلوہ بھی شامل ہو جائے تب تمہاری حقیر کوششیں بھی تمہیں ساتویں آسمان تک پہنچا سکتی ہیں۔لیکن اگر تم یہ سمجھو کہ اس کے فضل کے بغیر تم پہلے آسان پر بھی پی سکتے ہو تو م خلالی خوردہ ہو، اس کے فضل کے بغیر تحت الشرطی تک تو تم پہنچ سکتے ہو، شیطان کی گود میں توتم جاسکتے ہو لیکن رحمان خد کی گود میں اس کے فضل اور رحم کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا۔فقد كن بلکہ تم اس حقیقت کو جھلاتے ہو تم میں سے بعض بظاہر ڑے متقی اور پر ہیز گار ہیں لیکن وہ اپنے اعمال پر اپنی دعاؤں پر اور اپنی شب بیداری پر اور دنیا کے لوگوں کی خدمت جو وہ کرتے ہیں اس پر فخر کرنے والے ہیں۔خدا تعا لی کو اُن کی کوئی پروا نہیں ہے جب تک کہ وہ دعا کو اُس کی تمام شرائط کے ساتھ نہ کریں اور اللہ تعالی ان کی دعا کو قبول کرکے رحمانیت کے جوش میں ان کے اعمال کو قبول نہ کرے۔فسوف يكون براما تمھارے بہلانے کے بدنتائج تمہارے ساتھ لگے رہیں گے۔اب دیکھو اس وقت مسلمانوں کے بعض فرقوں میں انتہائی مجاہدہ کرنے والے لوگ بھی ہیں لیکن ان کے مجاہدات کا کیا نتیجہ ان کے حق میں نکل رہا ہے۔جہان تک۔۔۔ہم سمجھتے ہیں وہ نتیجہ نہیں نکل رہا جو ایک متقی کے ایسے ہی اعمال بلکہ اس سے ہزارویں حقہ عمل کا نتیجہ بھی کرتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام براہین احمدیہ میں فرماتے ہیں:۔حقیقت میں انہیں دو چیزوں کا تصور دُعا کے لیے ضروری ہے۔یعنے اوّل اس بات کا تصور کہ خدائے تعالی ہر یک قسم کی رگو ہیت اور پرورش اور جہت اور بدلہ دینے پر قادر ہے اور اس کی یہ صفات کا مل ہمیشہ اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں دوسرے اس بات کا تصور کہ انسان بغیر توفیق اور تائید اعلی کے کسی چیز کو اصل نہیں کرسکتا۔اور بلاشبہ یہ دونوں تصور ایسے ہیں کہ جب دعا کرنے کے وقت