تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 109 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 109

دل میں جم جاتے ہیں تو یکا یک انسان کی حالت کو ایسا تبدیل کر دیتے ہیں کہ ایک مشتکبیر ان سے متاثر ہو کر روتا ہوا زمین پر گر پڑتا ہے اور ایک گردن کش سخت دل کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔یہی گل ہے جس سے ایک غافل مردہ میں جان پڑ جاتی ہے۔انہیں دوباتوں کے تصور سے مہر کی دعا کرنے کی طرف کھینچا جاتا ہے۔غرض یہی وہ روحانی وسیلہ ہے جس سے انسان کی روح رو بخدا ہوتی ہے اور اپنی کمزوری اور امداد ربانی پر نظر پڑتی ہے۔اسی کے ذریعہ سے انسان ایک • ایسے عالم بے خودی میں پہنچ جاتا ہے جہاں اپنی کدر مستی کا نشان باقی نہیں بنتا اور صرف ایک ذات عظمی کا حلال چہکتا ہوا نظر آتا ہے اور وہی ذات ہمت کل اور بر یک بستی کا ستاون اور بریک درد کا چارہ اور بہ یک فین کا مینڈ دکھائی دیتی ہے۔آخر اس سے ایک صورت فنا فی اللہ کی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جس کے ظہور سے نہ انسان مخلوق کی طرف مائل رہتا ہے ، نہ اپنے نفس کی طرف ، نہ اپنے ارادہ کی طرف اور بالکل خدا کی محبت میں کھویا جاتا ہے اور اس مینیم حقیقی کی شہود سے اپنی اور دوسری مخلوق چیزوں کی ہستی کا لعدم معلوم ہوتی ہے۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم صفحه ۴۸۰ تا ۴۸۲ حاشیه نمیرا) اٹھارھویں غرض یہ بتائی گئی تھی کہ خانہ کعبہ کے قیام کے نتیجہمیں خدائے سمیع کی معرفت دنیا حاصل کرلے گی ایک ایسی اہمت یہاں پیدا کی جائے گی جو دنیا کو خدائے سمیع سے متعارف کرائے گی اور دنیا اس حقیقت سے انکار نہ کر سکے گی کہ تضرع اور ابتہال سے دعاؤں میں مشغول رہنے والے ہی اللہ تعالے کی صفت سمیع کے جلوے دیکھا کرتے ہیں۔اللہ تعالی سورہ مومن میں فرماتا ہے : وقَالَ رَبِّكُمُ ادْعُونِ اسْتَجَبْ لَكُمْ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جهنم داخرينہ آیت ) کہ تمہارا رب کہتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعائسنوں گا۔لیکن وہ لوگ جو کبر کرتے ہوئے