تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 107 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 107

پس دعاؤں کے ذریعہ ہی معرفت کے بلند مقامہ کو وہ حاصل کرے گی اور دعاؤں کے طفیل ہیں اپنے اعمال کے بہترین پھل دہ پائے گی۔قرآن کریم نے بڑی وضاحت کے ساتھ ان تین مقاصد کا ذکر کیا ہے میں سمجھتا ہوں کہ دعا اور قبولیت دعا پر اسلام نے جو روشنی ڈالی ہے کسی اور مذہب نے نہیں ڈالی۔کوئی اور مذہب اس کے مقابلہ میں پیش ہی نہیں کیا جاسکتا اللہ تعالی سورۂ فرقان کے آخر میں عباد الرحمن کا ذکر کرتا ہے کہ عباد الرحمن وہ ہیں جو یہ اعمال بجالاتے ہیں یا ان بعمال سے پرہیز کرتے ہیں غیر وغیرہ الر حمن کے معنے ہیں وہ پاک ہستی اللہ جو بغیر کسی عمل کرنے والے کے عمل اور بغیر کسی استحقاق حق کے اپنا احسان اس پر کرتی ہے۔آگے عباد الرحمن کے سارے اعمال کا ذکر ہے جن کا بظاہر صفت رحیمیت کے ساتھ تعلق ہے۔پس یہاں مضمون یہ بیان ہوا ہے کہ تم نیک اعمال بنتنے چاہو بالا موجب تک رحیمیت کے ساتھ رحمانیت کا فیض شامل نہیں ہو گا تمہیں کوئی بدل نہیں مل سکتا۔اسی لیے جب یہ مضمون ختم کیا تو آخر میں بڑے پر شوکت الفاظ میں یہ فرمایا : آخرمیں قُل مَا يَعْبَوابِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ فَقَدْ كَذَّ بتُمْ فَسَوفَ يَكُونَ لِذَا ماه رسورة الفرقان : ، یعنی بی تو صحیح ہے کہ اعمال صالحہ بجالانا بھی ضروری ہے اور بد اعمال سے بچنا بھی انسان کے فائدہ کی چیز ہے لیکن یہ یاد رکھو تمہاری اور تمہاری نیکیوں کی تمہارے خدا کو یا پردا ہے۔کولا دعاؤ گے۔ہاں اگر تیم اس کی پروا کرتے ہو تو اپنی دعاؤں سے اس کے فضل کو جذب کرو جب تم اپنی دعاؤں کے ساتھ اس کے فضل کو جذب کر لو گے تب تمھارے یہ اعمال تمہیں فائدہ پہنچا سکیں گے۔پھر دعا بھی بے معنی ہے جب دعا کے ساتھ قبولیت دعا حاصل نہ کی جائے۔دعا کی قبولیت کے لیے بھی اللہ تعالی کا فضل ہی چاہیے اور اس کے لیے بھی دعاکرنی پڑتی ہے پیس ہمیشہ دعا کرتے رہنا چاہیئے کہ اسے خدا ہم کچھ کرتے ہیں یانہیں کرتے ہم اعمال صالحہ کی قبولیت کے لیے جو دعائیں کرتے ہیں وہ بھی تجود یک تبھی پہنچ سکتی ہیں کہ جب تو ہماری دعاؤں کو قبول کرنے کا فیصلہ کر لے۔تو قبولیت دعا کے لیے پھر آگے دعا کی جاتی ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ خدا کو تمہاری کوئی پروانہیں تمہارے اعمال کی کوئی پروانہیں تمہاری قربانیوں کی کوئی پروا نہیں ، جوتم صدقہ و خیرات اس