تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 120
اور حضور سے کہ گویا وہ اپنی فرمانبرداری کے آئینہ میں اپنے معبود حقیقی کے چہرہ کو دیکھ۔رہا ہے۔" ر آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۸) اکیسواں مقصد اینا اتنا سنگت میں بیان ہوا تھا اور بتایاگیا تھا کہ نبی موجود پر ایک ایسی شرعیت مانی ہوگی جو انسانی فطرت کے سب بچے او حقیقی تقاضوں کو پورا کرنے والی ہوگی۔ہر استعداد اس سے فیضیاب ہوگی اور ہر فطرت صحب اپنے ظرف کے مطابق اس سے حصہ لے گی۔ہر زمانہ کے مناسب حال، ہر قوم کے مناسب حال، ہر فرد کی استعداد کے مناسبال " اس میں تعلیم موجود ہوگی اور موجود در ہے گی۔المناسك المنسك اور المنبت کی جمع ہے۔اس کے معنی ہیں زہد و عبادت ، وہ کام تو حصول قرب کی کے لیے کیے جاتے ہیں۔یہاں اللہ تعالی نے نہیں فرمایا آرنا المناسبات عبادت کے کامل طریق میں بتا بلکہ یہ فرمایا ہے اپنا منا سکتا ہمارے مناسب حال جو کامل طریق عبادت کے ہیں وہ ہمیں سکھا۔اور یا در ہے کہ صرف قرآنی شریعیت ہی ایسی ہے جس میں ی گنجائش موجود ہے۔پہلی شرائی میں گنجائش موجود نہیں تھی جب ان سلام کا وجود نائم ہوگیا اور قرآن کریم کی شرعیت این پر نازل ہو چکی ، تب آرنا منا سگنا کی دعائے ابراہیمی قبول ہوئی تو ارنا منا سکتا ہیں یہ دعا کی گئی ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں موقد اور محل کے مطابق احسن عمل کے انتخاب کی میں توفیق عطا کہ چنانچہ قرآن کریم نے بہت زور دیا ہے اس بات پر کہ قرآنی تعلیم کے مختلف پہلو ہوتے ہیں یعنی ہر حکم کے مختلف پہلو ہوتے ہیں، جو قرآن کریم نے دیا ہے ،تو جو پہلو موقعہ اور محل اور تمہاری اپنی استعداد کے مطابق ہے اس پہلو سے اُس عمل کو اختیار کرو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا ہے کہ بعض لوگ اپنی استعداد سے بڑھ کر عبادتوں میں مجاہدہ کارنگ اختیار کرتے ہیں، بہت لمبا عرصہ روزے رکھتے ہیں یا نیند کو بہت کم کر دیتے ہیں۔حالانکہ ان کے جسم اس کی برداشت نہیں کر سکتے اور نتیجہ اس کا یہ نہیں نکلتا کہ وہ الہ تعالیٰ کے قرب کو حاصل کریں بلکہ نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ پاگل ہو جاتے ہیں یا ان کو بعض اور عوارض لاحق ہو جاتے میں کسی کو مل ہو جاتی ہے، وق ہو جاتی ہے بعض اور بیماریاں ہیں جو ان کو لگ جاتی ہیں۔