تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 119
1/4 یہ دیکھے گی کہ انسان اپنے رب کی راہ میں اپنی طاقتوں کوکس طرح خرچ کرتا ہے۔اور اپنی استعدادوں کو وہ اپنے کمال تک کسی طرح پہنچاتا ہے۔اسلام کے معنے ہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے، اپنے رب کے سامنے اپنی گردن کو قربان کرنے کے لیے رکھ دیا۔اپنے تمام ارادوں کو چھوڑ کر، اپنی تمام خامیوں کو چھوڑ کرخدا کی رضا پر راضی رہنے کے لیے ہروقت تیار رہنا یعنی انا کچھ بھی باقی نہ رہے سب کچھ خدا کودیدیا جائے اور پھر خدا سے ایک نئی زندگی حاصل کر کے ایک خیر امت کی شکل میں اس دنیا میں زندگی کے دن گزارے جائیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس مضمون کے متعلق فرماتے ہیں :۔" اور اصطلاحی معنی اسلام کے وہ ہیں جو اس آیت کر ہمی ہیں اس کی طرف اشارہ ہے یعنی یہ کہ بلا من اسلم وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحِينٌ فَلَةٌ أَجْرُهُ مَنْ أَسْلَمَ عِندَ رَبِّهِ وَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ لا یعنی مسلمان وہ ه ہے جو خدا تعالی کی راہ میں اپنے نام وجود کو سونپ ایسے اپنی اپنے وجود کو ان قالی کے لیے اور اس کے ارادوں کی پیروی کے لیے اور اس کی خوشخود بھی حاصل کرتے کے لیے وقف کر دیو سے اور پھر نیک کاموں پر خدا تعالیٰ کے لیے قائم ہو جائے اور اپنے وجود کی تمام عملی طاقتیں اس کی راہ میں لگا دیور ہے۔مطلب یہ ہے اورا که اعتقادی اور عملی طور پر محض خدا تعالیٰ کا ہو جائے۔اعتقادی طور پر اس طرح سے کہ اپنے تمام وجود کو در حقیقت ایک ایسی چیز سمجھ لے ہو خدا تعالی کی شناخت اور اس کی طاعت اور اس کے عشق اور محبت اور اس کی رضا مندی حاصل کرنے کے لیے بنائی گئی ہے اور عملی طور پر اس طرح سے کہ خالصاً اللہ حقیقی نیکیاں ، ہو ہر ایک قوت سے متعلق اور ہر یک خداداد توفیق سے وابستہ ہیں مار سے گرا ہے ذوق شوق له سورة البقرة : آیت ۱۱۳ : ایسے