تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 121 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 121

دعا یہاں یہ سکھائی گئی ہے دارِنا منا سنگتا ہر قوم ، ہر زمانہ کے لحاظ سے اور پھر ہر قوم اور ہر زمانہ کے ہرفرد کے لحاظ سے جو مناسب عبادتیں اور تفوق اللہ اور حقوق العبد کی ادائیگی کے جو مناسب طریق میں وہیں کھاتا کہ یہ نسیم کی باری سے ریت سے اور لغزش سے اور بد دلی سے محفوظ ہو جائیں اور تیرے قرب کو حاصل کرلیں۔احسن پر یعنی جو بہتر معلو ہے اس کے اختیار کرنے کی طرف ، بڑے زور سے ، اور بڑی کثرت سے، قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے مثلاً فرمایا ہے جادِ لَهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (سورة النحل : آیت (۱۲۶) دوسرے کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے تم مختلف پہلوؤں کو اختیار کرسکتے ہو تو جو احسن پہلو ہے اس کو اختیار کرو۔ایک شخص ہے جو محبت سے بات سننے کے لیے تیار ہو جاتا ہے تم اسے ڈرا نہیں۔ایک موقعہ ایسا آتا ہے کہ مخالف سمجھتا ہے کہ اگر میں نے ا کو ساد پر آمادہ کر لیا تو ان کو نقصان ہوگا ہمیں فائدہ ہو گا۔اُس وقت ایک احمدی کا فرض ہے کہ قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق امن کی فضا کو قائم رکھنے کے لیے انتہائی کوشش کرے اور جاد لهم بانی بھی احسن میں جو احسن طریق اختیار کرنے کا حکم ہے اس پرعمل پیرا ہو نا امن میں رخنہ نہ پیدا ہو بہت سے احکام میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ کئی طریقے اختیار کیے جا سکتے ہی ایک حکم کی بجا آوری ہیں۔تو جو احسن طریق ہے اس کو تم اختیا کردو۔اصول الله تعالی فرماتا ہے وَاتَّبِعُوا احْسَنَ مَا اُنْزِلَ اليمر قرآن کریم کی کال اور کل شرعیت تم پر اتاری گئی ہے پر مہیں حکم یہ دیا جاتا ہے کہ وَاتَّبِعُوا احْسَنَ مَا أنزل إليكم من ربكم رسورة الزمر ) تمہارے رب نے جوتمہاری ربوبیت کرنا چاہتا ہے اپنی اس صفت کے تقاضا سے ایک ایسی شریعیت نازل کی ہے جو مختلف پہلو رکھتی ہے اور ہر آدمی ہر فرد ر قوم ، ہر زمانہ کی ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ خلف پہلوؤں سے اس پر عمل کیا جا سکے۔تو ہر پہلو اس کے اندر آگیا ہے اس نوعیت کا نزول رب کریم کی طرف سے ہے اس لیے قیامت تک محفوظ ہے جو احن طریق ہے اس کوتم اختیار کرو اور ہر حکم کواسل من طریق پر بجا لاؤ جو تمہارے مطابق حال ہو ، ہو زمانہ کے مناسب حال ہو۔جس کے نتیجہمیں تمہارے قولے اور تمہاری) استعدادیں صحیح نشود نما اور ربوبیت کو حاصل کر سکیں۔الکان اللہ تعالی ایک دوسری آیت میں فرتا ہے تبشیر بیا ولا الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ يَحْسَة کہ میرے ان بندوں کو جو انقول) اس بہترین شریعیت کو سنتے ہیں نیتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ اس میں جو احکام انہیں سنائے جاتے