تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 8 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 8

اس کو موقوع اعظم کہتے ہیں لینی اب اس کے اوپر شریعت کا حکم نہیں رہا، غرض معقل بنیاد ہے شریعت کی اور ان معانی کی جواس لفظ ہدایت کے اندر پائے جاتے ہیں میں اللہ تعالی نے ہاں یہ فرمایا کہ ہم اس ھرکے ذریعہ سے یہ ثابت کریں گے کہ تمام اقوام عام عقل کے لحاظ سے اور فراست کے لحاظ سے اور معارف کے لحاظ سے اور علوم کے لحاظ سے ایک میں قابلیت رکھتی ہیں کی تی ام کو اس لحاظ سے کسی دوسری قوم پر برتری نہیں ہے۔اس میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس زمانہ میں حقیقت کھو گی تتعلمین کا جلوہ دنیا پر ظاہر ہوگا، یعنی بی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد اس وقت بعض تو میں دنیا میں ایسی بھی پیدا ہو جائے گی جو یہ کہنے لگیں گی کہ ہم زیادہ عقل مند ہیں ہمار اندر زیادہ فراست اور علوم حاصل کرنے کی زیادہ قابلیت ہے اور بعض قومیں ایسی ہیں جن کو اللہ تعالی نے بنایا ہی اس غرض سے ہے کہ وہ ہماری محکوم رہیں۔تواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس گھر کے ذریعہ سے ہم ثابت کریں گے کہ اپنی عقل اور فراست اور بنیادی علوم کے لحاظ سے قوم قوم میں تمیز نہیں کی جاسکتی۔اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اور اس غرض کو حاصل کرنے کے لیے جس عقل کی ہیں فراست کی ، جن معارف کی اور جن علوم کی ضرورت تھی سب اقوام کو برابر دیئے ہیں یعنی اُن کے اندر برابر کی استعدادیں ہیں۔فرد فرد کی استعداد میں تو فرق ہو سکتا ہے، لیکن کسی ایک قوم کو دوسری قوم پر برتری حاصل نہیں۔دوسرے معنی ھدی للعلمین کے یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس بیت اللہ کے مقام سے قرآن کریم کا نزول شروع کرنے گا۔کیونکہ مفردات راغب میں ہے کہ ہدایت کے ایک معنی یہ ہیں کہ وہ آسمانی ہدایت کہ جس کی طرف اللہ تعالی نے انبیاء کے ذریعا اور پھر قرآن کریم کے نزول کے ساتھ بنی نوع انسان کو گا یا ہو گا دھر آؤ یہ ہدایت کے راستے ہیں، ان پر چلو تب تم مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔تو ہدایت کے معنی میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور پہلے تمام انبیاء ایک سے شریک ہیں لیکن ھدی تعلمین کے معنی حقیقی طور پر سوائے نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم کے اور کسی نبی پر چسپاں نہی ہوتے کیونکہ باقی تمام انبیاء اپنے زمانوں اور اپنی اقوام کی طرف مبعوث کیے گئے تھے۔پس یہاں اللہ تعالیٰ نے رخت فرمایا کہ یہ بیت اللہ قرآن کریم کے نزول کی جگہ ہے یہاں سے قرآن کریم نازل ہونا شروع ہوگا۔اس مرض سے ہم اس کی خلقت