تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 9 of 142

تعمیر بیت اللہ کے 23 عظیم الشان مقاصد — Page 9

کر رہے ہیں اور اس کی تطہیر وغیرہ کا سامان پیدا کر رہے ہیں۔هدی تلین کے تیسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ بیت اللہ ایک ایسا مقام ہے کہ یہاں اس شرحیت کی ابتدا ہوگی جو انسان پر غیر متناہی ترقیات کے دروازے کھولے گی، کیونکہ ہدایت کے تیسرے معنی امام راغب کے نزدیک یہ ہیں کہ ایک شخص جب ہدایت کی راہوں پر چل کر بعض اعمال صالحہ بجالاتا ہے تواللہ تعالی اپنے فضل سے اس کو مزید ہدایت کی توفیق عطا کرتا ہے ، تو ہر عمل صالح کے نتیجہمیں بہتراورجو اللہتعالیٰ کو بہت زیادہ محبوب عمل صالح ہے اس کی توفیق اس کو مل جاتی ہے بین تدریجی طور پر انسان کو روحانی ترقیات کے مدایح پر چڑھاتی چلی جائے گی اور اس امت پر اس کے ذریعہ سے فریقین ہی ترقیات کے دروازے کھولے جائیں گے اور پھر یہ فرمایا کہ بیت اللہ کے قیام کی مرض یہ ہے کہ ھدی العلمین سے راپنے چوتھے معنی کے لحاظ سے ایک ایسی امت مسلمہ پیدا کی جائے گی جس کو اللہ تعالٰی کے وہ انعامات میں گے جو ان سے پہلے کسی امت کو نہیں ملے اور قیامت تک بنی نوع انسان کو اس قسم کے کامل اور اکمل اور مکمل ثواب اور اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی جیتیں متی چلی جائیں گی کیونکہ ہدایت کے چوتھے معنی امام راغب نے یہ لکھے ہیں، انھہ اس کے نیچے الأخرة إلى الجنة۔چونکہ اُن کے نزدیک صرف آخرت میں ہی جنت ملتی ہے اس لیے انھوں نے " في الاخرة کے الفاظ میرے نزدیک) اپنے اس عقیدے کی وجہ سے زائد کردیئے۔ورنہ لغوی لحاظ سے اس کے یہی معنی ہیں : الهداية إلى الجنة لمنی میں غرض کے لیے انسان کو پیدا کیا گیا ہے ، وہ غرض اُسے حاصل ہو جائے گی ، تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ یہ جنت صرف اُخروی زندگی میں ہی نہیں بلکہ اس دنیوی زندگی میں بھی ملتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا تھا کہ بیت اللہ کو ہم اس لیے کھڑا کر رہے ہیں اور اس کی حفاظت کے ہم اس لیے سامان پیدا کر رہے ہیں کہ یہاں ایک ایسی امت جنم لے گی کہ جو ثواب اور جزا ان کو ملے گی اور خدا تعالیٰ کی رضا کی جو نیت ان کے نصیب میں ہوگی اورپہلی قوموں کے نصیب میں نہیں ہوئی ہوگی یعنی بہترین نیروی انسانی مصالح عمل کا نکل سکتا ہے وہ اس امت کے اعمال کا نکلے گا کیونکہ جو شرعیت اُن کو دی گئی ہے وہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔پہلوں کی شریعتیں چونکہ نسبی طور پر ناقص تھیں اگران پرپورے طور پر مل بھی کیا جاتا توان کا نیت و عقلا بھی وہ نہیں نکل سکتا تھا جو نتیجہ اس عمل کا